The news is by your side.

Advertisement

امریکا میں شیر خوار بچوں کی کرونا ویکسی نیشن کا آغاز

امریکا میں اس سے قبل 5 سال سے زائد عمر کے بچوں کو کرونا وائرس ویکسین لگائی جارہی تھی، تاہم اب 6 ماہ تک کے بچوں کی بھی ویکسی نیشن شروع کردی گئی ہے۔

بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق امریکا میں 6 ماہ سے زائد عمر کے بچوں کو بھی 21 جون سے کرونا وائرس ویکسین لگانے کا آغاز کردیا گیا۔

امریکا میں پہلے ہی 5 سال سے زائد عمر کے بچوں کو ویکسین لگانے کا آغاز کیا جا چکا تھا، تاہم 6 ماہ کے کمسن بچوں کو بھی کرونا ویکسین کے متعدد ڈوز لگانے کا آغاز کردیا گیا۔

امریکا بھر میں 6 ماہ سے 5 سال کی عمر کے 1 کروڑ 80 لاکھ بچے ہیں جو کرونا ویکسین لگوانے کے اہل ہیں اور ملک بھر میں 21 جون کو ویکسی نیشن کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 4 سال کی عمر کے بچوں کو فائزر و بائیو ٹیک کی ویکسین جبکہ 5 سال تک کے بچوں کو موڈرینا کی ویکسین لگائی جائے گی اور تمام بچوں کو ابتدائی طور پر دو ڈوزز لگائے جائیں گے۔

بچوں کو بھی بالغ افراد کی طرح پہلے ڈوز کے چار ہفتوں بعد دوسرا ڈوز لگایا جائے گا جبکہ ضرورت پڑنے پر انہیں بھی بوسٹر ڈوز لگانے کی تجویز زیر غور ہے۔

6 ماہ سے 4 سال کی عمر کے بچوں کو تین مائیکرو گرام کا ڈوز لگایا جائے گا اور انہیں بھی ایک ماہ بعد دوبارہ اتنا ہی ڈوز لگایا جائے گا۔

اسی طرح 5 سال سے زائد عمر کے بچوں کو 10 مائیکرو گرام، 12 سال کی عمر کے بچوں کو 30 مائیکرو گرام اور 12 سال سے زائد عمر کے بچوں کو 50 مائیکرو گرام کے ڈوز لگائے جائیں گے۔

امریکا میں پہلے ہی 5 سال سے زائد عمر کے بچوں کو ویکسین لگانے کی اجازت دی گئی تھی، اس کے علاوہ دیگر کئی ممالک میں بھی 5 سال سے زائد عمر کے علاوہ اس سے کم عمر بچوں کو بھی کرونا ویکسین لازمی لگانے کی اجازت دی گئی تھی۔

پاکستان میں اسکول جانے والے بچوں کو بھی ویکسین لگوانے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم پاکستان میں ویکسین کے لیے بچوں کی کم سے کم عمر 12 سال تجویز کی گئی تھی۔

متعدد ممالک میں اب بچوں کو ویکسین لگانے سمیت انہیں بوسٹر ڈوز بھی لگائے جا رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں