The news is by your side.

Advertisement

عراق سے چرائی گئی قدیم تختی امریکا نے لوٹا دی

واشنگٹن: امریکا نے ساڑھے تین ہزار سال پرانا کتبہ عراق کو واپس کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ایک تقریب میں 30 سال قبل عراق کے ایک عجائب گھر سے چرائی گئی قدیم تختی ‘گلگامش ٹبیلٹ’ عراقی حکومت کو واپس کر دی گئی۔

یہ ایک قدیم بادشاہ کی لائبریری کے کھنڈرات میں دریافت ہونے والی 3500 سال پرانی مٹی کی تختی ہے، 1.7 ملین ڈالر مالیت کی یہ تختی1853 میں قدیم بادشاہ کی لائبریری سے ملنے والی 12 تختیوں کے ذخیرے کا حصہ ہے۔

مٹی سے بنی اس گلگامش ٹیبلٹ پر سمیری زبان میں تحریر کندہ کی گئی ہے، جسے دنیا کا قدیم ترین مذہبی متن سمجھا جاتا ہے۔

خلیج جنگ کے ابتدا میں اسے عراق سے چوری کر کے لایا گیا تھا اور یہ ہابی لابی کو فروخت کر دیا گیا تھا، تاہم امریکی محکمہ انصاف نے اسے چوری کا قرار دیا، اس لیے اسے اب واپس کیا جا رہا ہے۔ ہوم لینڈ سیکورٹی انویسٹی گیشنز کے ساتھ وفاقی ایجنٹوں نے اس تختی کو ستمبر 2019 میں میوزیم سے ضبط کر لیا تھا۔

گزشتہ ماہ بھی امریکا نے 17 ہزار قدیم نوادرات عراق کو واپس کی تھیں، چوری کی گئی نوادرات میں قدیم عراقی تہذیب کی ہزاروں اشیا شامل تھیں، انھیں غیر قانونی خریداروں سے بازیاب کرایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ عراق میں ہزاروں قیمتی نوادرات داعش کے ہاتھوں بھی تباہ ہو چکی ہیں، نوادرات کی واپسی امریکا کی جانب سے قیمتی اثاثوں کو ان کے آبائی ممالک کو واپس پہنچانے کی ایک کوشش کا حصہ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں