site
stats
صحت

امریکی عوام کا ’بدصورت‘ پھل کھانے سے گریز

واشنگٹن: خوراک ضائع کرنا ہماری زندگیوں میں ایک عام سی بات بن گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں جتنی خوراک اگائی جاتی ہے اس کا ایک تہائی حصہ ضائع کردیا جاتا ہے۔

اس ضائع کردہ خوراک کی مقدار تقریباً 1.3 بلین ٹن بنتی ہے اور اس سے دنیا بھر کی معیشتوں کو مجموعی طور پر ایک کھرب امریکی ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

us-food-2

امریکا میں غذائی اجزا کی کل مقدار کی آدھی مقدار یعنی 50 فیصد ضائع کردی جاتی ہے۔ وہاں کھانے کی ایک بڑی مقدار جانوروں کو ڈال دی جاتی ہے، سڑ جاتی ہے یا اٹھا کر کچرے میں پھینک دی جاتی ہے۔

اور کیا آپ اس کی وجہ جانتے ہیں؟

مزید پڑھیں: اولمپک ویلج کا بچا ہوا کھانا بے گھر افراد میں تقسیم

اس کی وجہ سبزیوں، پھلوں اور دیگر غذائی اجزا کا ’خوبصورت‘ نہ ہونا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں اس قدر بڑی مقدار میں خوراک ضائع ہونے کی وجہ خوارک کی ظاہری ساخت کے لیے بنائے گئے خود ساختہ اصول ہیں۔

امریکی عوام ان پھلوں اور سبزیوں کو خریدنے سے گریز کرتی ہے جو ’بد شکل‘ ہوتے ہیں۔ یعنی وہ دیکھنے میں آنکھوں کو نہیں بھاتے، یا ان کی ظاہری ساخت درست نہیں ہوتی۔

us-food-3

اس رجحان کے باعث دکاندار بھی ایسے پھل اور سبزیاں اپنی دکانوں میں نہیں رکھتے جو اپنی طے کردہ ساخت کے مطابق نہ ہوں۔ مثلاً ایک اسٹرابیری کی عمومی ساخت تکون ہوتی ہے لیکن اگر وہ تکون نہیں ہوگی تو اسے کوئی نہیں خریدے گا۔

امریکی اس عادت سے اس قدر مجبور ہیں کہ بعض اوقات وہ تازہ پھل اور سبزیاں بھی اس لیے نہیں خریدتے کیونکہ وہ ’خوش شکل‘ نہیں ہوتے۔

امریکی عوام کی اس حسن پرستی کے باعث کسان ’بدصورت‘ سبزیوں اور پھلوں کو لامحالہ پھینکنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور یوں امریکا میں سالانہ 60 ملین ٹن خوراک ضائع ہوجاتی ہے۔

یہ ضیاع امریکی معیشت کو سالانہ 160 بلین امریکی ڈالر کا نقصان پہنچاتا ہے جبکہ اس عادت کے باعث ایک گھرانہ اوسطاً سالانہ 1600 ڈالر کا نقصان اٹھاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا میں اس رجحان کا سبب وہاں پر غذائی اشیا کا سستا ہونا بھی ہے۔ پورے ملک میں کھانا نہایت سستے داموں ملتا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے دودھ، گندم، مکئی اور سویا بین پر خصوصی اضافی سبسڈی بھی دی جاتی ہے۔


Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top