The news is by your side.

Advertisement

روسی ساختہ موبائل ایپلیکیشن ٹیلی گرام سے امریکا خوفزدہ

واشنگٹن: امریکا نے روسی ساختہ موبائل ایپلیکیشن ٹیلی گرام کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس ایپلیکیشن کو پلے اسٹور سے ہٹانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

امریکی اخبار گنسبرگ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے ٹیلی گرام ایپ کے خلاف عدالت میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیاک ہ روسی میسنجر دھمکی آمیز اور انتہا پسندانہ بیانات سمیت نسل پرستانہ تشدد کے فروغ کا سبب بن رہا ہے۔

انتظامیہ نے گوگل پر الزام عائد کیا کہ ہم نے ٹیلی گرام کے حوالے سے گوگل کو بھی خط ارسال کیا مگر انہوں نے کوئی ردعمل نہیں دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی خواہش ہے کہ اس ایپلیکیشن کو گوگل پلے اسٹور سے بھی ہٹا دیا جائے۔ سابق امریکی سفیر کا خیال ہے کہ جارج فلائیڈ کے قتل اور جو بائیڈن کے حلف کے بعد ٹیلی گرام کے ذریعے امریکا میں منفی سرگرمیاں ہوئیں۔

انہوں نے بتایا کہ نقص امن کے خطرے کے پیش نظر ہم نے سوشل میڈیا ایپ ’پارلر‘ کے خلاف بھی درخواست دائر کی تھی جس کے بعد اُسے تمام پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا ہے۔

عدالت میں دائر مقدمہ میں کہا کیا گیا ہے کہ روسی میسنجر ٹیلی گرام کی انتظامیہ نے شدت پسندی کے پیغامات پھیلانے والے افراد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی اور نہ ہی اُن پر نظر رکھنے کے لیے کوئی مؤثر نظام بنایا گیا ہے۔

ٹیکنالوجی پر نظر رکھنے والے ماہرین نے امریکی تحفظات پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹیلی گرام پر پابندی عائد کرنے کی خواہش محض اس لیے کی جارہی ہے کہ امریکی شہری اس ایپ کو استعمال نہ کریں کیونکہ واٹس ایپ کی متنازع پالیسی کے بعد سے یہ ایپ امریکا میں بہت تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں