The news is by your side.

Advertisement

اینٹی بائیوٹیک کا استعمال بچوں کے لیے خطرناک قرار!

واشنگٹن: امریکا میں ہونے والی تحقیق میں طبی ماہرین نے دریافت کیا کہ2 سال سے کم عمر بچوں کو اینٹی بائیوٹیک استعمال کرانا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آج کل چھوٹے بچوں کے بیمار ہونے پر جلد صحتیابی کے لیے اکثر اینٹی بائیوٹیکس ادویات تجویز کی جاتی ہیں لیکن حالیہ تحقیق میں دو سال سے کم عمر کے بچوں میں اس کے استعمال کو خطرناک قرار دے دیا گیا ہے۔

تحقیق کے مطابق 2 سال سے کم عمر بچوں کو اینٹی بائیوٹیکس ادویات کا استعمال کرانا ان میں بچپن میں دمہ، نظام تنفس کی الرجیز، چنبل، موٹاپے اور توجہ مرکوز کرنے کے عوارض سمیت دیگر بیماری کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

یہ امریکا کے مایو کلینک اور ریوٹیگرز یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق ہے جو طبی جریدے جرنل مایو کلینیک پروسیڈنگز میں شایع ہوچکی ہے، اس ریسرچ کے لیے محققین نے 14 ہزار سے زائد بچوں کو شامل کیا جن کی پیدائش 2003 سے 2011 کے دوران ہوئی تھی۔ ان میں 70 فیصد بچے ایسے تھے جو ایک یا دو سال کی عمر کے دوران اینٹی بائیوٹیک ادویات کا استعمال کرچکے تھے جس کی وجہ سے ان میں سانس یا کان کے انفیکشن نظر آئے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیٹکس کے زیادہ استعمال سے ادویات کے خلاف کردار ادا کرنے والے بیکٹریا کا ارتقا بڑھ جاتا ہے، بچوں میں اینٹی بائیوٹیک کا استعمال امراض کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ اینٹی بائیوٹیک کے حد سے زیادہ استعمال سے فائدہ مند جرثوموں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خیال رہے کہ ماضی میں کسی ایک بیماری کے ساتھ اینٹی بائیوٹیکس کے تعلق پر کام کیا گیا تھا، مگر اس تحقیق میں پہلی بار متعدد امراض سے اس کے تعلق کی جانچ پڑتال کی گئی ہے۔

اس تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ اینٹی بائیوٹیک کے استعمال سے بچوں میں میٹابولک امراض (موٹاپے، بہت زیادہ جسمانی وزن)، امیونولوجیکل امراض (دہ، فوڈ الرجیز) اور ذہنی صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں