The news is by your side.

Advertisement

امریکہ میں صدارتی انتخابات : ووٹنگ کا عمل جاری

واشنگٹن : امریکہ میں 59 ویں صدارتی انتخابات کا عمل جاری ہے اس حوالے سے عوام میں جوش و خروش پایا جا رہا ہے، کورونا وبا کے باعث الیکشن سے قبل ڈاک اور ارلی ووٹنگ کا آپشن بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔

صدارت کیلئے ٹرمپ اور جوبائیڈن مد مقابل ہیں، جن کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ ریپبلکن امیدوار ٹرمپ دوسری بار صدارت کیلئے میدان میں آنے والے ڈیموکریٹ امیدوار جوبائیڈن 8 سال امریکی نائب صدر رہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ پہلے ہی فلوریڈا میں ووٹ کاسٹ کرچکے ہیں، جوبائیڈن نے ڈیلاوئیر میں ووٹ ڈالا تھا، اس کے علاوہ نائب صدارت کیلئے مائیک پینس اور کاملا ہیرس مد مقابل ہیں، ڈیموکریٹ پارٹی کا انتخابی نشان گدھا ہے جبکہ ری پبلکن پارٹی کا انتخابی نشان ہاتھی ہے۔

امریکی ریاست نیو ہمپشائر کے ڈکس ویل ٹاؤن میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے، نیو ہمپشائر کے ڈکس ویل ٹاؤن میں جوبائیڈن5 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں، ڈکس ویل ٹاؤن چھوٹا علاقہ ہے جہاں رات 12 بجے ووٹنگ شروع ہوئی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ میں 59 ویں صدارتی انتخابات کے لئے ووٹنگ جاری ہے، اس بار تقریباً نو کروڑ سے زائد ووٹ پہلے ہی این پرسن اور پوسٹل بیلٹ پیپر کے ذریعہ ڈالے گئے ہیں۔کورونا کی وجہ سے بذریعہ ڈاک زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔

منگل کو پولنگ کا آغاز امریکی ریاست ورمانٹ میں پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر تین بجے سے ہو گیا۔ امریکا چونکہ ایک بہت بڑا ملک ہے اس لیے ملک کے مغربی حصوں میں پولنگ ختم ہونے اور الیکشن نتائج آنے میں وقت لگے گا۔ انتخابات کے حوالے سے متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات کے نتائج میں تاخیر ہوسکتی ہے،۔

امریکا میں الیکٹورل ووٹ سے صدر کو منتخب کیا جاتا ہے،538الیکٹورل ووٹ میں سے جیتنے کیلئے270 ووٹ درکار ہیں، فلوریڈا کے29 اور پینسلوانیا کے 20 الیکٹورل ووٹ ہیں، فلوریڈا، اوہائیو، پینسلوانیا، وسکانسن ،مشی گن میں کڑا مقابلہ ہوگا،13سوئنگ ریاستوں کا کردار فیصلہ کن ہو گا۔

امریکا کا صدارتی الیکشن قدرے پیچیدہ مرحلہ ہے، ہار جیت کا دارو مدار عام شہریوں کے ووٹوں سے زیادہ ہر ریاست سے منتخب ہونے والے “الیکٹرز” پر ہوتا ہے، جو بعد میں صدر کا انتخاب کرتے ہیں، ہر ریاست سے ان “الیکٹرز” کی تعداد وہاں سے منتخب ہونے والے اراکین کانگریس کے برابر ہوتی ہے۔

538ارکان پر مشتعمل اس گروپ کو “الیکٹرل کالج” کہا جاتا ہے، اس گروپ کی اکثریت یعنی 280 ممبر جس امیدوار کی حمایت کرتے ہیں وہ ملک کا صدر قرار پاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں