The news is by your side.

Advertisement

پی پی، ن لیگ خوفزدہ ہیں کہ حکومت مؤثر کارکردگی دکھانے جارہی ہے، عثمان ڈار

اسلام آباد : وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ خوفزدہ ہیں کہ موجودہ حکومت مؤثر کارکردگی دکھانے جارہی ہے، ہم مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
عثمان ڈار نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ بتائے کہ وزیراعظم کو گھر کیوں بھیجنا چاہتی ہے، ایک کروڑ70لاکھ افراد نےتحریک انصاف کو ووٹ دیا۔

انہوں نے کہا کہ معاشی اعشاریے بھی بہتری کی طرف جارہے ہیں، یہ لوگ خوفزدہ ہیں کہ حکومت کارکردگی دکھانے جارہی ہے، ن لیگ نے ملک کو تباہ کیا، معیشت کو خسارے میں ڈال دیا تھا، پچھلی تین حکومتوں میں یہ ہی ہوتا رہا کہ حکومت جانے والی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی حکومتوں نے اپنی اپنی مدت پوری کی، یوسف گیلانی اگر زرداری کی خوشامد نہ کرتے اور خط لکھ دیتے تو وہ بھی اپنی مدت پوری کرلیتے، نوازشریف بھی اگر پاناما اسکینڈل میں پکڑے نہ جاتے تو مدت پوری کرتے۔

عثمان ڈار نے کہا کہ حکومت نے بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میاں صاحب کو چار ہفتے کیلئے جانے کی اجازت دی تھی، ہم عدالت گئے تو نوازشریف کی روانگی مزید تاخیر کا شکارہوگی، امید کرتے ہیں نوازشریف چار ہفتوں میں علاج کرالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شریف فیملی کے5افراد مفررو ہیں اس لے7ارب کی بات کی، جرمانے کی رقم اپنے لیے نہیں مانگی تھی، یہ پاکستان کی عوام کا پیسا ہے، حکومت کو کسی سہولت کار کی ضرورت نہیں ہے۔
عثمان ڈار نے کہا کہ پیپلزپارٹی یا آصف زرداری سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں، پیپلزپارٹی کے سامنے نواز شریف کی مثال موجود ہے۔

نواز شریف کیلئے بھی ان کے ذاتی ڈاکٹر کو رسائی دی گئی، پیپلزپارٹی ڈاکٹر کا نام بتائے حکومت کو اس کیلئے سفارش کروں گا، وزیر اعظم نے انسانی ہمدری کی بنیاد پر فیصلہ کیا تو انہیں سمجھ نہیں آیا، جب عدالت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فیصلہ دیا تو مٹھائی بانٹ رہے ہیں۔

عثمان ڈار نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے گزررہا ہے، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، کور کمیٹی اجلاس میں مہنگائی کا مسئلہ ایجنڈے میں سرفہرست تھا، اتحادیوں کے تحفظات بھی دور کردیں گے، پی ٹی آئی اپنے منشور کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے، کابینہ کے فیصلے میں اتحادی جماعتوں کے وزرا بھی شامل ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں