The news is by your side.

وہ قصبہ جہاں اب 66 دن تک تاریکی چھائی رہے گی

موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی دن کا دورانیہ کم ہونا شروع ہوجاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ سورج جلدی غروب ہوجاتا ہے، تاہم زمین پر ایک قصبہ ایسا بھی ہے جہاں سورج اب 2 ماہ بعد طلوع ہوگا۔

امریکی ریاست الاسکا کا قصبہ یٹکیاجیوک، جس کو پہلے بیرو کے نام سے جانا جاتا تھا، وہاں 18 نومبر کو جب سورج غروب ہوا تو طویل ترین رات کا آغاز ہوا۔

چار ہزار نفوس پر مشتمل اس قصبے میں 2022 میں آخری بار سورج غروب ہوا تھا اور اب وہاں کے رہائشی سورج کی روشنی کو دوبارہ 2 ماہ سے زیادہ عرصے بعد دیکھ سکیں گے۔

اس کی وجہ پولر نائٹ یا قطبی رات ہے جو آرکٹک اور انٹارکٹیکا خطوں میں ہر سال موسم سرما میں نمودار ہوتی ہے کیونکہ زمین اپنے محور پر کچھ جھک جاتی ہے۔قطبی رات کی اصطلاح ایسے مقامات پر استعمال کی جاتی ہے جہاں 24 گھنٹے سے زیادہ وقت تک سورج طلوع نہیں ہوتا۔

الاسکا کے شمالی خطے کا ایک تہائی حصہ آرکٹک سرکل سے اوپر موجود ہے اور اس لیے وہاں ہر سال ان ایام میں زمین اپنے محور پر کچھ جھک جاتی ہے، ایسا ہونے سے آرکٹک سرکل کے مختلف علاقوں میں موسم سرما کے دوران سورج کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک طلوع نہیں ہوتا۔

زمین کے شمالی نصف کرے میں جون کے آخر سے دن کا دورانیہ گھٹنے لگتا ہے اور ہر ملک میں سورج کے غروب ہونے کا دورانیہ کم ہونے لگتا ہے، مگر اس کا اثر شمالی خطوں پر سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

وہاں دن کا دورانیہ ستمبر کے آخر میں بہت تیزی سے کم ہونے لگتا ہے، ایسا ہی الاسکا کے اس قصبے میں بھی ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: 12 دنوں سے دائرے میں گھومنے والی پراسرار بھیڑوں کی ویڈیو وائرل

یکم نومبر کو یٹکیاجیوک میں 5 گھنٹے 42 منٹ تک سورج کی روشنی دیکھی گئی تھی، یعنی صبح 10 بج کر 18 منٹ پر سورج طلوع ہوا اور 4 بجے غروب ہوا۔

اسی طرح 18 نومبر کو سورج صرف 34 منٹ کے لیے طلوع ہوا اور دوپہر ایک بج کر 29 منٹ پر غروب ہوگیا اور اب 65 دن بعد دوبارہ طلوع ہوگا، ویسے اس دوران سورج کی روشنی کسی حد تک تو نظر آئے گی مگر یہ معمول کے سورج غروب یا طلوع ہونا جیسا نہیں ہوگا۔

اب وہاں سورج 22 جنوری کو دوبارہ طلوع ہوگا۔

دو ماہ سے زیادہ عرصے تک تاریکی کے بارے میں سننا عجیب تو لگتا ہے مگر اس قصبے کو 11 مئی سے 2 اگست 2021 تک کبھی ختم نہ ہونے والی دن کی روشنی کا بھی سامنا ہوا تھا۔

شمالی اور جنوبی قطب میں سال میں ایک بار سورج غروب اور طلوع ہوتا ہے، یعنی بہار میں سورج طلوع ہوتا ہے اور سرما میں غروب ہوتا ہے۔

شمالی قطب میں اس کے نتیجے میں مارچ سے ستمبر تک سورج کی روشنی رہتی ہے جبکہ باقی 6 ماہ تاریکی کا راج ہوتا ہے اور صرف ستاروں، چاند کی روشنی ہی نظر آتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں