The news is by your side.

Advertisement

کیا ویکسین سے طویل کووِڈ کا امکان کم ہو جاتا ہے؟

کیا ویکسین سے طویل کووِڈ کا امکان کم ہو جاتا ہے؟ متعدد تحقیقی مطالعات نے اس اہم سوال کا جواب فراہم کر دیا ہے۔

برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے ایک جائزے سے پتا چلتا ہے کہ جن لوگوں کو ویکسین لگائی گئی ہے، ان میں طویل کووِڈ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے چاہے وہ وائرس سے متاثر ہی کیوں نہ ہوں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل کووِڈ (Long COVID) ایک اصطلاح ہے، جب کرونا انفیکشن کی علامات سارس کووِڈ 2 انفیکشن کے ابتدائی مرحلے کے بعد بھی برقرار رہتی ہیں، تو یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

مذکورہ تحقیق کے دوران دنیا بھر میں 15 اسٹڈیز سے آج تک دستیاب شواہد کا جائزہ لیا گیا، نتائج بتاتے ہیں کہ ویکسین انفیکشن کے خطرے اور بیماری کو کم کرتی ہے، بشمول تھکاوٹ جیسی علامات، جب کہ وہ لوگ جنھیں ویکسین نہیں لگی، انھیں جب کووِڈ لاحق ہوتا ہے، تو ان میں طویل کووِڈ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا کہنا تھا کہ وہ افراد جنھوں نے فائزر، آسٹرازینیکا یا موڈرنا ویکسین کی 2 ڈوز یا سنگل شاٹ جانسن اینڈ جانسن کی ایک ڈوز لگوائی ہو، ان میں طویل مدت کووِڈ کی علامات پنپنے کے امکانات غیر ویکسین شدہ لوگوں کی نسبت کم ہوتے ہیں۔

ادارے کی ہیڈ آف امیونائزیشن ڈاکٹر میری رامسے کا کہنا تھا کہ یہ مطالعے کووڈ-19 ویکسینیشن کا مکمل کورس کروانے کے ممکنہ فوائد میں اضافہ کرتے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر لوگوں میں طویل مدت کووِڈ والی علامات تھوڑے عرصے کے لیے ہوتی ہیں، اور پھر ختم ہوجاتی ہیں، لیکن کچھ لوگوں میں یہ علامات شدید ہو سکتی ہیں اور روز مرّہ کی زندگی میں خلل ڈال سکتی ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر آپ غیر معمولی علامات کو انفیکشن کے چار ہفتے بعد بھی محسوس کر رہے ہوں تو آپ کو اپنے جنرل فزیشن سے رابطہ کرنا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں