The news is by your side.

Advertisement

لنک روڈ زیادتی کیس میں بڑی پیش رفت، متاثرہ خاتون ٹیلی فون پر ابتدائی بیان ریکارڈ کرانے پر راضی

لاہور : لنک روڈ زیادتی کیس میں متاثرہ خاتون نے پولیس کو ٹیلی فون پر ابتدائی بیان ریکارڈ کرانے اور ملزم شفقت علی کی شناخت پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق لنک روڈ زیادتی کیس میں20 روز بعد اہم پیش رفت سامنے آئی ، ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون پولیس کوٹیلی فون پر ابتدائی بیان ریکارڈ کرانے پر راضی ہوگئی ، متاثرہ خاتون کا161 کا ابتدائی بیان کا ٹرانسکرپٹ چالان کیساتھ لف ہوگا۔

ذرائع کے مطابق پولیس عدالت سے ان کیمرہ ٹرائل کی درخواست کرے گی، دوران ٹرائل متاثرہ خاتون کا ’’فرضی نام‘‘ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ متاثرہ خاتون نے ملزم شفقت علی کی شناخت پر بھی رضا مندی ظاہر کردی ہے۔

واقعے کے 20روزبعد بھی مرکزی ملزم عابد علی گرفتار نہ ہوسکا، ذرائع پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم اب بھی پنجاب کی حدود میں ہے، ملزم بھکاری اور مزدور کے روپ میں ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں : ملزم شفقت کی شناخت پریڈ، عدالت سے پولیس کو مہلت مل گئی

یاد رہے آج لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں گجرپورہ زیادتی کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ملزم شفقت کی شناخت پریڈ کے لیے پولیس کو مہلت دیتے ہوئے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ میں بھی توسیع کر دی۔

تفتیشی افسر نے ملزم سے متعلق بتایا کہ ملزم شفقت کو دیپالپور سےگرفتار کیاگیا، ملزم کا ڈی این اے ابتدائی طور پر متاثرہ خاتون سے میچ کرگیا ہے، ملزم کی نشان دہی پر مرکزی ملزم عابد کوگرفتار کرنا باقی ہے، ملزم سے پستول اور ڈنڈا بھی برآمد کرنا باقی ہے۔

واضح ہے کہ 9 ستمبر کو ملزم شفقت نے عابد علی سے مل کر گجرپورہ میں خاتون سے دوران ڈکیتی زیادتی کی تھی، جس کے بعد پولیس نے شفقت گرفتار کیا، دوران تفتیش شفقت نے خاتون سے زیادتی کا اعتراف کرتے ہوئے بیان میں کہا تھا کہ 9 ستمبر کو وہ اور عابد ڈکیتی کی غرض سے کار کے پاس گئے تھے، پہلے خاتون سے لوٹ مار کی، اور پھر زیادتی کا نشانہ بنایا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں