The news is by your side.

Advertisement

سانحہ بھوپال کے متاثرین کرونا سے مرنے لگے، مودی سرکار بے فکر

نئی دہلی: بھارتی شہر بھوپال میں 1984 میں گیس کے خوف ناک لکیج کے متاثرین اب کرونا وائرس سے مرنے لگے ہیں، دوسری طرف مودی سرکار بے فکری کی نیند سو رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سانحہ بھوپال کے متاثرین کرونا وبا میں مرنے لگے ہیں، اس تباہ کن صنعتی حادثے میں متاثر ہونے والے خاندانوں نے شکایت کی ہے کہ حکومت نے انھیں بے آسرا چھوڑ دیا ہے۔

بھوپال سانحہ 1984 میں پیش آیا تھا جب یونین کاربائیڈ پیسٹی سائڈ فیکٹری سے نہایت زہریلی میتھائل آئیسوسائنیٹ گیس خارج ہوئی تھی جس سے فوری طور پر ساڑھے 3 ہزار لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے، جب کہ آیندہ برسوں میں مزید 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

زندہ بچ جانے والے متاثرین میں بھی مختلف بیماریاں نمودار ہوئیں، اور وہ شدید جسمانی کم زوری کا شکار ہو گئے۔ اب کرونا وبا کے دوران اپنے کم زور قوت مدافعت کے باعث یہ متاثرین آسانی سے کرونا کا شکار بننے لگے ہیں۔

متاثرین کے رشتے داروں اور ان کے لیے آواز اٹھانے والے سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے مودی سرکار نے انھیں بے آسرا مرنے چھوڑ دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سرکار نے ان کا علاج کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

ادھر سرکاری ڈیٹا کے مطابق بھوپال میں کرونا وائرس سے ہونے والی 45 میں سے 20 اموات گیس لکیج کے متاثرین میں ہوئی ہیں، جب کہ سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے مرنے والے 37 افراد گیس لکیج واقعے سے منسلک ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں