سنگاپور: ہائی وے پر پراسرار مخلوق، ویڈیو وائرل ghost girl captured
The news is by your side.

Advertisement

سنگاپور: ہائی وے پر پراسرار مخلوق، ویڈیو وائرل

سنگا پور: پراسرار مخلوق کی موجودگی کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب خیالی باتیں ہیں تاہم ہمارے ارد گرد ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو ان کو سچا ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

ذرا تصور کریں کہ رات کی تاریکی میں آپ ہائی وے پر  اسپیڈ میں گاڑی چلا رہے ہوں اور سامنے  اچانک پراسرار مخلوق جسے عام فہم میں جن یا بھوت کہتے ہیں وہ آجائے تو کیا ہوگا؟ اس بات کو نہ ماننے کے باوجود آپ تھوڑی دیر کے لیے خوفزدہ ضرور ہوں گے۔

عصر حاضر میں  ایسی سائنسی ایجادات سامنے آئیں جو ناقابلِ فہم ہیں، جیسے کہ کیمروں میں بعض اوقات ایسے مناظر عکس بند ہوجاتے ہیں جن میں پراسرار مخلوق موجود ہوتی ہے، اس طرح کی کئی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آچکی ہیں جنہیں دیکھ کر ہی تھوڑی دیر کے لیے انسان خوفزدہ ہوجاتا ہے۔

سال نو کا ناقابلِ یقین واقعہ سنگا پور میں پیش آیا کہ جب ہائی وے پر گاڑی ڈرائیو کرنے کے دوران فٹ پاتھ پر کھڑی پراسرار مخلوق پر ڈرائیور کی نظر پڑی، لگژری گاڑی میں لگے کیمرے نے اس سارے منظر کو محفوظ کرلیا۔

مزید پڑھیں: سائنسدانوں نے خلا ئی مخلوق کی زندگی کا ثبوت ڈھونڈ لیا

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے مطابق یہ واقعہ تین مارچ کو اُس وقت پیش آیا کہ جب سنگا پور کے علاقے میں گاڑی چلانے والے شخص نے جیسے ہی ریل مال کو عبور کیا تو ابکت تیمھا روڈ پر  پہنچا، ہائی وے پر ڈرائیور مقررہ رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا۔

ڈرائیور ایرک کا کہنا ہے کہ اُس نے گھر واپس آکر جب گاڑی میں لگے کیمرے کی ریکارڈنگ اچانک دیکھنے شروع کی تو وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ وہ جس جگہ سے گزرا وہاں فٹ پاتھ پر ایک پراسرار مخلوق موجود تھی۔

ویڈیو دیکھیں

مذکورہ شخص کا دعویٰ ہے کہ کئی بار ویڈیو دیکھنے کے بعد اُسے یہ پراسرار مخلوق نظر آئے جس پر اُس نے ٹریفک اہلکاروں سے بات کی اور ریکارڈنگ محکمے کو پیش کی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس آئرلینڈ میں 1828 میں قائم ہونے والے اسکول کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں جنات کی موجودگی ہے تاہم یہ بات انتظامیہ ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔

بعد ازاں اسکول کے اسٹاف ممبر نے جب احاطے میں لگے کیمرے کی ریکارڈنگ چیک کی تو وہ خوف زدہ ہوکر کیونکہ اس میں ایسی کچھ حرکات نظر آئیں جو غیر فطری تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانےکے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔ 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں