امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تصویر والے 5 ملین ڈالر (ایک ارب 40 کروڑ پاکستانی روپے) مالیت کے گولڈن ریزیڈنسی کارڈ کی رونمائی کر دی۔
ایک جانب جب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے اعلان کے بعد معاشی جنگ کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پانچ ملین ڈالر (ایک ارب 40 کروڑ پاکستانی روپے) مالیت کے گولڈن ریزیڈنسی کارڈ کی رونمائی کر کے اسٹاک مارکیٹس میں ہلچل مچا دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایئر فورس ون پر ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو اپنی تصویر والا گولڈن کارڈ دکھایا اور صحافیوں سے ازراہ مذاق کہا کہ کیا کوئی اس کو خریدنا چاہے گا؟
یہ کارڈ جو کریڈٹ کارڈ سے ملتا جلتا ہے، اس کے ڈیزائن میں ٹرمپ کا چہرہ ہے۔ اس تصویر کو میڈیا نے گزشتہ انتخابی مہم کے دوران اٹلانٹا میں ان کی گرفتاری کے دوران ان کی مشہور تصویر سے متاثر قرار دیا ہے۔
ٹرمپ نے کارڈ کی رونمائی کرتے ہوئے کہا کہ اس کارڈ کی مالیت 5 ملین ؔڈالر ہے اور اس کے تحت امیر غیر ملکیوںکو امریکی شہریت کا خصوصی ویزا حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
امریکی صدر کی جانب سے 60 سے زیادہ ملکوں کو متاثر کرنے والی بڑی کسٹم ڈیوٹی کے انکشاف کے بعد کارڈ کے اعلان نے اسٹاک مارکیٹوں میں شدید ہنگامہ آرائی کردی ہے۔ ڈاؤ جونز انڈیکس 2020 کے بعد اپنی بدترین کارکردگی میں 1,700 پوائنٹس گر گیا۔ مارکیٹوں کو ایک دن میں تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔
امریکا میں زندہ شخصیات کی تصاویر کو امریکی کرنسی پر لگانے کی اجازت نہیں ہے تاہم کانگریس میں ٹرمپ کے حلیف 250 ڈالر کے نوٹ پر صدر کا چہرہ لگانے کے لیے قانون سازی کے لیے کام کر رہے ہیں۔