The news is by your side.

Advertisement

“موت کے سوداگر” کی رہائی کی اپیل

ماسکو : ہتھیاروں کے ایک سزا یافتہ روسی اسمگلر کی والدہ نے امریکی اور روسی صدور سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کی رہائی سے متعلق بات چیت کی جائے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہتھیاروں کے روسی اسمگلر کو امریکہ میں25 سال قید کی سزا ہوئی ہے۔ ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی وارداتوں سے متاثر ہوکر اداکار نکولس کیج کی فلم “لارڈ آف وار” بھی بنائی گئی تھی۔

توقع ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پوتن جب 16 جون کو جنیوا میں ملاقات کریں گے تو وہ قیدیوں کے ممکنہ تبادلوں سمیت جیو پولیٹیکل اور دیگر امور پر بھی بات چیت کریں گے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ روس کے سب سے ہائی پروفائل قیدی 54 سالہ وکٹر باؤٹ کا معاملہ بھی دونوں صدور کی بات چیت کا حصہ ہوگا۔

تنازع سے دوچار ممالک لائبیریا اور انگولا میں اسلحے کی فراہمی پر سابق برطانوی وزیر پیٹر ہین نے جرم وکٹر باؤٹ کو موت کا سوداگر قرار دیا تھا۔

سال2005میں اسلحے کی اسمگلنگ سے متعلق فلم لارڈ آف وار ان سے متاثر ہو کر بنائی گئی، اس فلم میں نکولس کیج نے اداکاری کی۔
وکٹر باؤٹ کی والدہ ریسا نے ایک خط میں امریکی اور روسی صدور سے درخواست کی ہے کہ برائے مہربانی اس پر کوئی متفقہ فیصلہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی عمر 85 برس کے قریب ہے اور اگر ان کا بیٹا اپنی سزا مکمل کرتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو دوبارہ نہ دیکھ پائیں۔

ایک ماں کی حیثیت سے جو اپنے بیٹے کا کئی برسوں سے انتظار کر رہی ہے اپیل کرتی ہوں کہ کوئی متفقہ فیصلہ کریں تاکہ میرا بیٹا میری زندگی میں ہی میرے پاس واپس آجائے۔

ایک امریکی عدالت نے 2011 میں کولمبیا کے باغیوں کو اسلحہ فروخت کرنے کی سازش کے الزام میں وکٹر باؤٹ پر فرد جرم عائد کی تھی۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی آر آئی اے میں شائع خط کے مطابق ان کی والدہ نے کہا کہ وکٹر نے پہلے ہی جیل میں اپنی زندگی کے 13 سال ضائع کر دیے ہیں۔ میرا بیٹا دہشت گرد نہیں، وہ ایک بزنس مین ہیں۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ انہوں نے یہ خط نہیں دیکھا تاہم انہوں نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ دونوں رہنما قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کریں گے۔

مارکسسٹ کولمبین باغیوں کے بھیس میں امریکی ایجنٹوں نے سابق سوویت ایئرفورس کے افسر اور کئی زبانوں کے ماہر وکٹر باؤٹ کو تھائی لینڈ سے گرفتار کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں