The news is by your side.

Advertisement

امریکہ : سیاہ فام شخص کے قتل کے بعد پرتشدد مظاہرے، شہری بے قابو

 منیسوٹا : امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شخص کے قتل کے بعد پرتشدد مظاہروں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس نے پورے امریکہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، قتل میں ملوث اہلکار کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست منیسوٹا میں رواں ہفتے پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے بعد منیاپولِس شہر میں شروع ہونے والوں ہنگاموں کا سلسلہ جمعے کو درجنوں دوسرے شہروں تک پھیل گیا۔

کئی شہروں میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی ریاستوں میں ہنگامہ آرائی، آگ لگانے کے واقعات، پولیس کے ساتھ جھڑپیں اور گرفتاریاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ واقعے میں ملوث چار پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ ایف بی آئی معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔

امریکہ کے مختلف ریاستوں میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، احتجاج کے چوتھے روز بھی مشتعل افراد کے اشتعال میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ مظاہرین نے متعدد گاڑیوں کو بھی نذر آتش کر دیا ہے۔

مظاہرین اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ کے ساتھ جارج فلائیڈ کی تصاویر بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ پلے کارڈ پر میری جلد میرا گناہ نہیں ہے جیسا نعرہ لکھا ہوا تھا۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ اس احتجاج میں سیاہ فام کے علاوہ سفید فام کے لوگ بھی بڑی تعداد نظر آئے۔

واضح رہے کہ امریکی ریاست مینی سوٹا میں ایک پولیس اہلکار نے46 برس کے سیاہ فارم جارج فلائیڈ کے گلے پر 8 منٹ تک اپنا گھٹنا رکھ کر اس کا گلا گھونٹ دیا جس کے باعث اس نے موقع پر ہی دم توڑ دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں