The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعلیٰ کے پی محمودخان کے خلاف بھی آوازیں اٹھنے لگیں

پشاور: پنجاب اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کے بعد خیبر پختون خوا میں بھی وزیر اعلیٰ کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کے پی میں مخالف گروپ کے علی تراکئی نے وزیر اعلیٰ محمود خان پر اظہار عدم اعتماد کر دیا ہے، محمد علی تراکئی نے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے حکومت چھوڑنے کی دھمکی دے دی ہے۔

رہنما پی ٹی آئی محمد علی تراکئی نے کہا کہ محمود خان سے 80 فی صد ارکان اسمبلی ناراض ہیں، محمود خان نہیں بیوروکریسی حکومت چلا رہی ہے، پرویز خٹک کے مقابلے میں محمود خان کی کارکردگی صفر ہے، ان کے پاس وژن ہے نہ صلاحیت، ایسے ساتھ نہیں چل سکتے۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ محمود خان کے خلاف بھی پی ٹی آئی ارکان کا گروپ سرگرم ہو گیا ہے، پریشر گروپ میں 7 وزرا اور پی ٹی آئی کے 28 ارکان اسمبلی شامل ہیں۔

اسپیکر بلوچستان کا وزیر اعلیٰ کے خلاف اعلان بغاوت

دوسری طرف ترجمان صوبائی حکومت اجمل وزیر نے کہا ہے کہ کابینہ ممبران میں کوئی لڑائی نہیں، اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، عمران خان کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے ہم سب متفق ہیں، صوبائی حکومت کے ساتھ بہترین ٹیم ہے، تمام وزرا پر مکمل اعتماد ہے، گڈ گورننس کے ایجنڈے کو ٹیم کے ساتھ آگے لے کر چل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال کے خلاف بھی اسپیکر عبد القدوس بزنجو نے اعلان بغاوت کر دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ جام کمال اچھی باتیں کرتے ہیں لیکن کام کچھ نہیں ہورہا ہے صوبے میں۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف فارورڈ بلاک کی خبریں آ رہی ہیں، جس پر عثمان بزدار کہتے ہیں کہ پنجاب میں کوئی فارورڈ بلاک ہے نہ پریشر گروپ، تاہم گزشتہ روز ناراض ارکان کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات نہ ہو سکی تھی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں