site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

نظام شمسی کی وسعتوں کوعبور کرنے والا خلائی جہاز

voyager interstellar

ایک دور تھا جب یہ سمجھا جاتا تھا کہ خلا میں سفر کسی صورت بھی ممکن نہیں ، 1921 میں نیویارک ٹائمز کے ادارئیے میں عظیم سائنسدان رابرٹ ایچ گوڈارڈکا باقاعدہ تمسخر اڑایا گیا ‘ کہ ان کی سائنسی معلومات ہائی سکول کے شاگردوں سے بھی کم ہیں ، چونکہ خلا میں ہوا موجود نہیں ہے جس سے راکٹ کو اوپر اٹھانے کے لیے ردِعمل کی قوت (تھرسٹ) یا ’دھکا‘ فراہم کیا جاسکے۔اس لیے گوڈارڈ ‘ راکٹ کو خلا میں بھیجنے کی جن کوششوں میں مصروف ہیں وہ سعیِ لا حاصل کے سوا اور کچھ نہیں مگر وقت نے ایک دفعہ پھر ثابت کیا کہ ’کبھی ایک نسل کا فلسفہ دوسری نسل کے لیے خرافات بن جاتا ہے تو کبھی گزرے ہوئے کل کی بے وقوفی آنے والے کل کی دانائی ثابت ہوتی ہے۔

عظیم سائنسدان رابرٹ ایچ گوڈارڈ

لگ بھگ بیس برس بعد جب ’نیل آرم سٹرانگ چاند پر پہلا قدم رکھ کر انسان کے ایک دیرینہ خواب کو حقیقت میں ڈھال چکا تھا تو نیویارک ٹائمز نے اپنی اس تاریخی غلطی پر باقاعدہ معذرت کی مگر اس معذرت کو قبول کرنے والا ’جدید راکٹری کا بانی‘ گوڈارڈ تب دنیا میں موجود نہیں تھا۔ اگرچہ سائنسدان اس خواب کے حقیقت میں ڈھلنے سے بہت پہلے مستقبل کی کچھ اور منصوبہ بندیاں کرچکے تھے جس میں سرِ فہرست نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں تک رسائی کا منصوبہ تھا ۔

سنہ1960کے اواخر میں ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری میں کام کرنے والے ایرو سپیس انجینئر ’گیری فلینڈرو‘ نے اس حوالے سے ایک اہم دریافت کی کہ ہر ایک سو پچھتر 175 سال بعد یہ سیارے ایک مخصوص ترتیب میں آتے ہیں ، اس خاص ٹراجیکٹری یا راستے سے ایک سے دوسرے سیارے تک خلائی جہاز کی رسائی نسبتاََ آسان تھی ۔یہ مخصوص ترتیب تحقیق کے مطابق ایک دفعہ پھر 1970 کے اواخر میں متوقع تھی۔

چاند گاؤں: مریخ کی طرف سفر کا پہلا پڑاؤ*

لہذاٰ سائنسدانوں نے’گریویٹی اسسٹ ‘ یا قوتِ کشش کی معاونت والی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے ایک مشن تشکیل دیا جس میں دو گروپس کی صورت چار خلائی جہازوں کو ان سیاروں کی طرف بھیجا جانا تھا۔یہ فلکیاتی طبیعات کی ایک مؤثرتکنیک ہے جسے سرمایہ، وقت اور ایندھن بچانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہےکیونکہ سیاروں کی کشش ثقل خلائی جہاز کی رفتار ، سمت اور راستے پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہےاور اسے از خود آگے کی طرف دھکیلتی ہے جس طرح اجسام ،زمین کی کشش کے باعث از خود اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں ۔

اس پروگرام کو ابتدا میں’مرینر‘ کا نام دیا گیا تھا جسےبعد میں تبدیل کرکے’وائجر انٹرسٹیلر مشن‘ کر دیا گیا کیونکہ مسلسل توسیع کے باعث ان خلائی ‘جہازوں میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں کہ یہ مرینر فیملی کی دیگرسپیس شپ سے بہت مختلف تھے۔اس پروگرام کے تحت بیس اگست 1977 کو’وائجر ٹو اس ٹراجیکٹری( مخصوص راستہ) پر روانہ کیا گیا جس سے اسے مشتری، زحل ، اس کے چاند’ٹائٹن‘ ، یورینس اور نیپچون تک رسائی حاصل کرنا تھی۔

اس کے سترہ دن بعد پانچ ستمبر 1977 کو’وائجر ون‘ کو خلا میں بھیجا گیا ‘ جس کی مخصوص ٹراجیکٹری ابتدا میں مشتری اور زحل تک محدود تھی،اور اس کا مشن 8919 تک مکمل ہوچکا تھا مگر بعد میں تین دفعہ توسیع کی گئی اور مشن کو تین ادوار یا فیززمیں تقسیم کر دیا گیا۔

ابتدائی فیز میں دونوں سپیس شپس کو اپنی طے شدہ ٹراجیکٹری سے گزرتے ہوئے متعلقہ سیاروں کی تصاویر اور ڈیٹا فراہم کرنا تھا ۔ جس کی تکمیل کے بعد دوسرا فیز شروع ہوا اور اسے ’ہیلیو سفیئر‘ کا نام دیا گیا ، یہ سورج کے گرد غبارے یا بلبلے نما خلائی علاقے کو کہا جاتا ہے جو آگےپلوٹو تک پھیلا ہوا ہے۔ سورج کی شدید حدت کے باعث جو ’سولر وائنڈز‘ یا پلازمہ پیدا ہوتا ہے‘ وہی اس بلبلے کی تشکیل کا سبب بھی بنتا ہے اور اسے خلا کی بے کراں وسعتوں میں تھامے رکھتا ہے ۔ورنہ شدید بیرونی دباؤ کے باعث یہ پھٹ جائے۔ وائجر ون نے یہ فیز دسمبر 2004 میں 94 ایسٹرانامیکل یونٹ کے فاصلے پر جبکہ وائجر ٹو نے اگست 2007 میں 84 ایسٹرانامیکل یونٹ کے فاصلے پر مکمل کیا۔

واضح رہے کہ ایک ایسٹرانامیکل یونٹ ایک اعشاریہ پانچ ضرب دس کی وقت آٹھ کلومیٹر کے برابر ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس مشن کے تیسرےفیز کا آغاز ہوا جس کا تعلق نظام ِ شمسی کی حدود سے باہر بے کراں خلا یا ’انٹرسٹیلر سپیس ‘کی تسخیر سے ہے۔

 

وائجر-1

چونکہ ان خود کار ( روبوٹک )خلائی جہازوں کو بھیجنے کا اولین مقصد یہ تھا انھیں خلا میں ممکنہ حد تک جتنی دور ہوسکے بھیجا جا ئے تاکہ نظامِ شمسی کے کسی اور سیارے پر اگر انسان نما مخلوق بستے ہیں تو ان تک زمین کے باسیوں کا پیغام پہنچایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے بارہ انچ کے’ گولڈن فینو گرام ‘ ان دونوں خلائی جہازوں میں رکھے گئے ، یہ دراصل ’ٹائم کیپسول‘ تھے جن میں زمین کی تصاویر اور آوازوں کا ڈیٹا محفوظ کر دیا گیا تھا ۔

مشن کی ابتدا میں سائنسدانوں کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان جہازوں سے اتنے لمبے عرصے تک رابطے میں رہنا ممکن ہوگا مگر توقعات کے برخلاف یہ گزشتہ چالیس برس سے نا صرف زمین سے رابطے میں ہیں بلکہ باقی سیاروں کی نادر تصاویر اور ڈیٹا بھی بھیجتے رہے ہیں۔ وائجر ون کو اب تک خلا میں سب سے زیادہ فاصلے پر جانے والی سپیس پروب کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

اب بہت سے ذہنوں میں یہ سوال ابھر رہا ہوگا کہ آخر ان خلائی جہازوں میں ایسا کون سا ایندھن استعمال کیا گیا تھا جو چالیس سال سے حرکت میں ہونے کے با وجود ختم ہونے میں نہیں آرہا ؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ان جہازوں کی ابتدائی ولاسٹی ( سمت اور رفتار) طے کر کے ان کا آپریشنل سسٹم کچھ ایسا رکھا گیا تھا کہ جہاز جب تک سیدھی سمت میں حرکت کرتا ہے تو بالکل ایندھن استعمال نہیں کرتا بلکہ ستاروں کی کشش ِ ثقل اسے از خود آگے کی جانب دھکیلتی ہے ۔ایندھن کی ضرورت صرف ان کی سمت تبدیل کرتے وقت پڑتی ہے جس کے لیے ہائیڈرازائن اور پلوٹونیم 238 بطور ایندھن استعمال ہوتے ہیں ۔

خلائی جہاز کیسینی کو زحل سے ٹکرا کر تباہ کردیا گیا*

اس کے علاوہ ان خلائی جہازوں پر خود کار پلانٹس بھی موجود ہیں جو پلوٹونیم کے ذریعے بجلی تیار کرتے رہتے ہیں جس سے ان کےکیمروں ، سکینرز ، میگنیٹو میٹر اور دوسرے حساس آلات کو مسلسل توانائی فراہم ہوتی ہے۔ اس مشن سے جائنٹ پلینٹس جنھیں گیس جائنٹس بھی کہا جاتا ہے کے بارے میں گراں قدر معلومات حاصل ہوئیں ‘ جن میں سب سے اہم مشتری کے ماحول میں پیدا ہونے والے پیچیدہ بادلوں ، ہواؤں اور طوفانوں کے ساتھ اس کے چاند ” ’لو‘ میں برپا ہونے والی آتش فشانی کی معلومات ہیں ۔

اس کے علاوہ زحل کا رِنگ نما سسٹم جو ہمارے نظام ِ شمسی میں اپنی نوعیت کا واحد مظہر ہے ‘ کی بہت واضح تصاویر بھی حاصل ہوئیں ، یہ دراصل ان گنت چھوٹےچھوٹے ذرات پر مشتمل دائرے ہیں جنھوں نے زحل کو ہر طرف سے گھیرا ہوا ہے۔ وائجر ٹو سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر ناسا نے ’کیسینی‘ خلائی گاڑی کو زحل کی جانب روانہ کیا جو بیس برس تک گراں بہا معلومات فراہم کرنے کے بعد اب اس سیارے کی مٹی میں فنا ہو چکی ہے۔

خلائی گاڑی – کیسینی

سائنسدانوں نے انٹرسٹیلر سپیس میں ان خلائی جہازوں کے داخلے کے بعد نئے اندازے اور تخمینے لگانا شروع کر دیئے ہیں اور ان کوقوی امکان ہے کہ وائجر ون تقریباً تین سو سال میں ’ اورٹ کلاؤڈ‘ تک پہنچ سکے گی، یہ ایک نظریاتی بادل نما ساخت ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس بادل نے ہمارے سورج کو ہر جانب سے گھیرا ہوا ہے۔ اگرچہ اب ’نیو ہوریزون ‘ سپیس شپ وائجر کی نسبت بہتر ٹیکنالوجی اور تیز تر رفتار سے خلا میں روانہ کی جا چکی ہے اور اس وقت وائجر ون زمین سے جس فاصلے پر ہے ، ہوریزون پروب کی اس مقام پر رفتار تیرہ کلومیٹر فی سیکنڈ ہوگی پھر بھی یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ ہوریزون ، وائجر ون کو کراس کرتے ہوئے اس سے آگے نکل جائے۔ لہذاٰ انسانی تاریخ میں جو مقام ’وائجر انٹرسٹیلر مشن ‘اور’وائجر ون ‘خلائی جہاز کو حاصل ہوا ‘ وہ امر رہے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top