جامعہ کراچی میں ضرورتِ مند طلبہ کے لیے دیوارِتعلیم -
The news is by your side.

Advertisement

جامعہ کراچی میں ضرورتِ مند طلبہ کے لیے دیوارِتعلیم

کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے تعلیم کی جانب مثبت رحجان کا ہونا لازمی ہے اور کتابوں سے دوستی ہی کسی قوم کوترقی یافتہ اقوام کی صف میں مقام دلاتی ہے‘ اسی مقصد کے حصول کے لیے جامعہ کراچی کے طلبہ و طالبات نے دیوارِ تعلیم قائم کی ہے۔

پاکستان میں تعلیم کا شعبہ ہمیشہ ہی حکومتی سطح پر غفلت کا شکار رہا ہے اور اسی سبب یہاں کتب بینی کا رواج تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے‘ عالم یہ ہے کہ یونی ورسٹی پہنچنے تک طلبہ وطالبات کی قابلِ ذکر تعداد نے درسی کتب کے علاوہ کوئی کتاب نہیں پڑھی ہوتی۔

02

کتابیں نہ پڑھنے کی ایک وجہ ان کی زیادہ قیمتیں بھی ہیں۔ پاکستان جیسے کمزور معیشت والے ملک میں کتب بینی ہمیشہ سے ایک مہنگا شوق سمجھا گیا ہے۔ تعلیم کے میدان میں کتب بینی کے شوق میں کمی کا ادراک کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے طلبہ وطالبات نے ایک چھوٹا لیکن اہم قدم اٹھایا ہے۔

04

جامعہ کراچی کے سوشل سائنسز کے طلبہ وطالبات نے ایک دیوارِ تعلیم قائم کی ہے جہاں موجود بک شیلف میں طلبہ اپنے پاس موجود اضافی کتب رکھ جاتے ہیں جبکہ ضرورت مند طلبہ انہیں وہاں سے بغیر کسی شرمندگی کے حاصل کرلیتے ہیں۔

سال 2017 کی ممکنہ مقبول کتابیں: پاکستانی مصنف بھی فہرست میں شام

کتابیں پڑھنے سے عمر بڑھتی ہے

طالب علموں کے لیے مفت کتابیں ردی کے بھاؤ فروخت

دیوارِ تعلیم شعبہ تاریخ عمومی کی آئی ایچ قریشی میموریل لائبریری سے ملحقہ گارڈن میں قائم کی گئی ہے جو کہ آرٹس لابی کے بالکل ساتھ واقع ہے اور جامعہ میں سوشل سائنسز کے اکثر طلبہ وطالبات کا یہاں سے گزر ہوتا ہے۔

01

بک شیلف کا معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں ںہ صرف تاریخ بلکہ بزنس‘ سائنسز اور لٹریچر سے متعلق کتب بھی موجود تھیں جبکہ انگریزی ناول بھی یہاں موجود تھے۔

06

جامعہ کراچی کے ایک طالب علم نے ’دیوارِ تعلیم‘ کے حوالے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ یقیناً ایک مثبت اقدام ہے اورایسے اقدامات ہر تعلیمی ادارے میں ہونےچاہیں کہ جہاں سے طلبہ باآسانی کتب حاصل کرسکیں۔

03

شعبہ تاریخ عمومی کے ایک سابق طالب علم نے جامعہ کراچی میں اس دیوار کو دیکھ کر بے پناہ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ’دیوارِ تعلیم‘ کا قیام درحقیقت صحت مند معاشرے کی تعمیر کی جانب ایک انقلابی قدم ہے ‘ معاشرے میں کتب بینی کے رواج کو فروغ دینے کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی پہلے کبھی نہیں تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں