The news is by your side.

Advertisement

جنگِ‌ ستمبر: بھارت کو سبق سکھانے کے لیے ہاکی اور کلہاڑی تھامے ہر شہری نے بارڈر کا رخ کیا

ستمبر 1965ء کی جنگ نے قومی یکجہتی اور پاک فوج کے ساتھ عوام کا والہانہ پیار اور گہرے و قلبی تعلق کو جس طرح تازہ کیا اور مزید مضبوط بنایا، اس کی مثال کم ہی اقوام میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

دورانِ جنگ ایک جانب پاکستان کے شیر دل جوانوں نے جذبہ شہادت سر سرشار ہو کر جس طرح مختلف محاذوں پر اپنی پیشہ ورانہ تربیت اور جنگی ساز و سامان کے استعمال میں اپنی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا، وہ ہماری عسکری تاریخ کا ایک شان دار باب ہے اور دوسری طرف جوش و ولولہ اور جذبہ ایمانی سے معمور پاکستانی عوام تھے جو بلیک آؤٹ کے دوران یا کسی بھی موقع پر اپنے گھروں اور تہ خانوں میں‌ محفوظ رہنے کے بجائے ہر محاذ پر اپنی فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیّار نظر آئے۔

ایک جگہ قدرت ﷲ شہاب یوں رقم طراز ہیں: ’’بھارتی حملے کو روکنے اور پسپا کرنے کا سہرا ائیر فورس، فوجی جوانوں اور افسروں کے سَر ہے جنھوں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر حیرت انگیز جواں مردی دکھائی اور بعضوں نے وطنِ عزیز کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا۔‘‘

یہ وہ موقع تھا جب پوری قوم یک جان و یک قالب ہوگئی۔ قوم نے جذبۂ حب الوطنی کی سرشاری میں قومی یک جہتی کے ایسے نقش اُبھارے کہ تاریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔

پوری قوم نے اپنے باوقار وجود کا احساس اس شان سے دیا کہ رات کی تاریکی میں شب خون مارنے والوں کو جان بچانا مشکل ہوگئی۔ شجاعت و عزم کے نئے باب کا اضافہ ہوا۔ قومی غیرت اور جذبہ حریت کی تازہ داستانیں رقم ہوئیں۔

جنگِ ستمبر کے دوران پوری قوم کا ایک ہی نعرہ تھا کہ دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی ہے۔ ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ فضائی حملوں کے دوران پور لاہور بلیک آؤٹ میں ڈوب جاتا تو لاہوری اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر ’’فائٹ‘‘ دیکھتے۔ اور اپنے پائلٹوں کو باقاعدہ داد دیتے۔ انھیں اس بات کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا کہ وہ حملوں کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔

فائٹ کا نظارہ میں نے ایک مرتبہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح آگے بھارتی طیارے اور ان کے پیچھے ہمارے جہاز ہوتے۔ لوگ سڑکوں پر دشمنوں کے جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے بلند نعرے لگاتے۔

عوام کے جذبات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہر شہری کا رخ بارڈر کی طرف ہوتا۔ ان میں سے کوئی ہاکی اور کلہاڑی اٹھائے تو کوئی اپنے فوجی بھائیوں کے لیے کھانا اور دیگر اشیا لے کر بارڈر کی طرف جا رہا ہوتا۔ یہ کیسا جذبہ تھا ہمارے ملّی نغمے ہتھیار کا کام کر رہے تھے۔ ہمارے فوجی جوان ان کو سن کر بہادری اور دلیری سے لڑتے، یقیناً فوج اور عوام کا ساتھ بہت کام آتا ہے۔

(قومی یکجہتی اور جنگ ستمبر سے اقتباسات)

Comments

یہ بھی پڑھیں