The news is by your side.

Advertisement

وہ جنگ جو ایک بالٹی کی وجہ سے شروع ہوئی

جنگیں ہر طرح کی وجوہات کے لیے لڑی جاتی ہیں، معاشی سلامتی، طاقت، انتقام، سیاست، بین الاقوامی اتحاد، شخصیات کے مابین تنازعہ وغیرہ لیکن تاریخ میں ایک جنگ ایسی بھی ہوئی ہے جو لکڑی کی بالٹی کی وجہ سے شروع ہوئی۔

لکڑی کی ایک عام سی بالٹی جو کنویں سے پانی بھرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ اس عجیب و غریب بالٹی کی جنگ میں 2 ہزار لوگ مارے گئے۔

یہ سنہ 1325 کی بات ہے جب اٹلی میں دو ریاستیں بلونہ اور موڈینا ایک دوسرے کی سخت مخالف تھیں، ان دونوں شہروں کی الگ الگ فوج تھی اور ان کی حکومت، افواج اور لوگوں کے درمیان اختلاف اس قدر شدید تھا کہ یہ ایک دوسرے کا نقصان کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔

ایک بار موڈینا شہر کے کچھ فوجی بلونہ میں داخل ہوگئے اور بلونہ شہر کے بیچ و بیچ بنے ایک کنویں میں پانی نکالنے کے لیے لکڑی کی بنی بالٹی کو چرا لیا اور اسے اپنے ساتھ لے گئے۔

ویسے تو یہ ایک لکڑی کی عام سی بالٹی تھی لیکن یہ بالٹی اب اس شہر کی حکومت اور ان کی فوج کے لیے انا کا مسئلہ تھا۔ انہوں نے موڈینا کی حکومت سے بالٹی کی واپسی کا مطالبہ کیا جس کے انکار میں بلونہ نے موڈینا کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔

بالٹی چرانے والے موڈینا کے پاس فوج اور گھوڑوں کی تعداد بلونہ سے تقریباً 3 سے 4 گنا کم تھی۔ 15 نومبر 1325 کو لکڑی کی بالٹی کی وجہ سے اس جنگ کا آغاز ہوا۔

دونوں شہروں کے ہزاروں فوجی کئی گھنٹے ایک دوسرے سے لڑتے رہے جس کے نتیجے میں 2 ہزار کے قریب فوجی بالٹی کی لڑائی کے نام ہوگئے۔

موڈینا کے 8 ہزار فوجی بلونہ کے 32 ہزار فوجیوں پر بھاری پڑگئے اور بلونہ کی فوج کو بالٹی لیے بغیر ہی واپس بھاگنا پڑا۔ اسی چڑھائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موڈینا کی فوج بلونہ کے شہر میں گھس گئی اور ان کے کئی قلعے تباہ کردیے اور بہت سارا نقصان کر دیا۔

بلونہ نے تعداد میں تین سے چار گنا ہونے کے باوجود اس جنگ میں منہ کی کھائی، موڈینا نے یہ بالٹی کبھی بھی واپس نہیں کی۔ یہ تاریخ کی چند عجیب ترین جنگوں میں سے ایک جنگ تھی جسے وار آف دا بکٹ کا نام دیا گیا۔

یہ بالٹی اٹلی کے شہر موڈینا میں آج بھی محفوظ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں