The news is by your side.

Advertisement

دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ، بند ٹوٹ گیا

چیئرمین این ڈی ایم اے تلوار پوسٹ پر سیلابی صورت حال کا جائزہ لینے پہنچ گئے

اوچ شریف: دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، پانی کے دباؤ کے باعث موضع عظمت پور میں زمیندارہ بند ٹوٹ گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے نتیجے میں دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل اونچی ہو رہی ہے، زمیندارہ بند ٹوٹنے سے عظمت پور اور مکھن بیلہ کے علاقے زیر آب گئے۔

سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے اہل علاقہ اپنی مدد آپ کے تحت بند بنانے میں مصروف ہیں۔

دوسری طرف چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے تلوار پوسٹ پر دریائے ستلج میں سیلابی صورت حال کا جائزہ لیا، انھوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے نقصانات کے ازالے کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

سیلاب سے پنجاب بھر میں صرف ایک جانی نقصان ہوا ہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے

انھوں نے کہا کہ پانی چھوڑنے سے ملکوں کو بہت بڑا نقصان ہوتا ہے، ہم نے اپنے ذرایع سے پتا کروا لیا تھا کہ بھارت پانی چھوڑے گا، سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لیے 16 اگست سے تیاری کر لی تھی جب کوئی سیلابی ڈیٹا نہیں آیا تھا۔

چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہم اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے ہر وقت تیار ہیں، ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ہم ہونے والے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں، میں نے پورے علاقے کا فضائی دورہ کیا، تحصیل اور ڈسٹرکٹ لیول پر نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب پانی نیچے جائے گا تو اس کے بعد پھیلنے والی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہیں۔

چیئرمین کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع پانی چھوڑا گیا، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی، اس کے بارے میں متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جائے گا، دریائے ستلج میں بھارت کی جانب سے جو پانی چھوڑا گیا تھا پی ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو آگاہ کر دیا تھا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سیلاب سے پنجاب بھر میں صرف ایک جانی نقصان ہوا ہے، کام کرنے والی ٹیمیں لوگوں کی فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگائیں گی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ دریائے ستلج کے سیلاب سے متاثرہ 4 ہزار افراد کو صحت کی سہولیات دی گئیں اور 13 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مشکل کی اس گھڑی میں حکومت سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد کرے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں