وزیرمینشن: قائدِاعظم کی سب سے اہم یادگار -
The news is by your side.

Advertisement

وزیرمینشن: قائدِاعظم کی سب سے اہم یادگار

آج ملک بھرمیں بانی ِ پاکستان محمد علی جناح کا 138 واں یوم ولادت منایاجارہا ہے، قائد اعظم 25 دسمبر 1876 کو جس گھر میں پیدا ہوئے، اس کا نام وزیرمینشن ہے اوریہ کراچی کے علاقے کھارادرمیں واقعہ ہے۔

قائد اعظم کے والد جناح پونجا آپکی ولادت سے تقریباً ایک سال قبل گجرات سےکراچی آکرآباد ہوئے ، وزیرمینشن کی پہلی منزل انہوں نے کرائے پرلی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی سال یہاں گزارے، قائد اعظم کے تمام بہن بھائیوں کی ولادت بھی اسی عمارت میں ہوئی۔

سن 1953 میں حکومت پاکستان نے عمارت کو اس کے مالک سے خرید کر باقاعدہ قومی ورثے کا درجہ دیا گیا، اسکی زیریں منزل کو ریڈنگ ہال جبکہ پہلی منزل کو گیلری بنایا گیا اور 14 اگست 1953 کو عوام کے لئے کھول دیا گیا۔

‘ایک گیلری کا اضافہ اس وقت کیا گیا جب 1982 میں قائد اعظم کی ایک اور بہن شیریں جناح نے مزید کچھ نوادرات ’قائد اعظم ریلکس کمیشن کے حوالے کیں۔

دو منزلوں پر مشتمل گیلریوں میں قائداعظم کا فرنیچر ، انکے کپڑے ، انکی اسٹیشنری ، انکی ذاتی ڈائری اور انکی دوسری بیوی رتی بائی کے استعمال کی اشیا کی نمائش کی گئی ہے۔ سب سے اہم اثاثہ جو وزیر مینشن کے علاوہ کہیں میسر نہیں وہ قائداعظم کی قانون کی کتابیں ہیں جن کی مدد سے وہ مقدمات کی پیروی کرتے تھے

یہ عمارت 2003 سے 2010 تک تزئین و آرائش کے لئے بند رہی۔

میوزم کے عملے میں سے ایک شخص نے بتایا کہ 1992میں جب نیلسن منڈیلا پاکستان تشریف لائے تو وہ یہاں بھی آئے تھے لیکن بدقسمتی سے مہمانوں کی کتاب جس میں انکے دستخط تھے وہ گم ہوچکی ہے۔

قائد اعظم کے یوم ِ پیدائش پر انکی جائے ولادت پرآنے والوں کی نا ہونے کے برابر تعداد سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بحیثیت قوم ہمیں قائد اعظم اوران سے منسلک تمام چیزوں کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا ورنہ یہ سب کچھ قصہ ِ پارینہ بن کر رہ جائے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں