The news is by your side.

Advertisement

کمزور سفارتی پالیسی کے سبب ہم کشمیر کا مقدمہ ہار گئے، خورشید شاہ

اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر برائے قومی اسمبلی سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے موجودہ حالات کچھ بھی نہیں، ماضی میں بھی کشمیر کے معاملے کو دبانے پر بھارت کی جانب سے 5 بار وطن عزیز پر حملہ کیا گیا مگر وہ ہر بار ناکام رہا کیونکہ عوام آج بھی کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’’ماضی میں بھی بھارت کی جانب سے اس طرح کے حالات پیدا کیے مگر ہم نے ہر بار اپنے اتحاد سے انڈیا کی حکمت عملی کو ناکام کیا کیونکہ ماضی میں پارلیمنٹ میں جو لائحہ عمل طے کیا جاتا اُس پر مکمل عمل کیا جاتا تھا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان دولخت ہونے کے بعد بھارت نے ہمیں عالمی دنیا میں تنہا کردیا تھا مگر ذوالفقار علی بھٹو نےصرف 13 روز میں 40 اسلامی ممالک کے دورے کر کے اُن سے حمایت طلب کی جس کے بعد پاکستان ایٹمی طاقت بن کر ابھرا، بھٹو صاحب نے ملک کو ایٹم بم کا فارمولا دیا اور نواز شریف نے فارمولے پر  عمل درآمد کرتے ہوئے وطن عزیز کو ایٹمی طاقت بنوایا‘‘۔

سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’’بھارت کشمیر میں دہشت گردی کررہا ہے اور عالمی دنیا میں اسے چھپانے کے لیے پاکستان کے خلاف سازشوں پر عمل پیرا ہے، پوری قوم کشمیر کے حوالے سے جذبات رکھتی ہے کہ کشمیر کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان کے معاملے پر بھی کسی کی دو رائے نہیں، ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور کرپشن کرپشن ہی ہوتی ہے اس پر کوئی سمجھوتا نہیں جاسکتا‘‘۔

اپوزیشن لیڈر نے حکومتی پالیسی کو تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ’’بھارت عالمی دنیا میں پاکستان کو تنہاء کررہا ہے اور حکومت  کی خارجہ پالیسی مسلسل کمزور ہوتی دکھائی رہی ہے، انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے پاکستان ابھی تک سفارتی پالیسی مضبوط نہیں کرسکا؟، کمزور سفارتی پالیسی کے تحت ہم کشمیر کا جیتا ہوا مقدمہ ہار گئے اور پاکستان کے حصے کو آج تک حاصل نہیں کرسکے‘‘۔

بھارت کی جانب سے سارک کانفرنس کے خلاف ہونے والی سازشوں پر تبصرہ کرتے ہوئے سید خورشید شاہ نے کہا کہ ’’پاکستان کی سفارتی پالیسی مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے بھارت نے سارک کانفرنس کے خلاف سازشیں کیں اور پانچ ممالک کو اپنے ساتھ کر لیامگر اس ضمن میں حکومت نے کوئی کام نہیں کیا، سارک کانفرنس میں شرکت نہ کرنے والے ممالک میں سے 3 مسلم ممالک ہیں، پڑوسی ملک افغانستان بھی ہمارے احسانات کو بھول کر بھارت کے شکنجے میں آگیا ہے‘‘۔

اپوزیشن لیڈر نے حکومت کو تجویز دی کہ موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ تعینات کردیا جائے کیونکہ وہ بہت محنتی ہیں، موجودہ وزیر خزانہ بہت محنتی انسان ہیں وہ اس منصب کو سنبھالنے کے بعد معاملات کو کافی حد تک سنبھال لیں گے کیونکہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور طارق فاطمی کا ایک معاملے پر علیحدہ علیحدہ بیان سامنے آتا ہے جو عالمی دنیا میں جگ ہنسائی کا سبب بن رہا ہے‘‘۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ’’ماضی میں بھی ایسے مواقع پر مشترکہ اجلاس طلب کیے گئے مگر وہ سب بے نتیجہ اور تقریروں کی حد تک ہی رہے، امید ہے جو باتیں آج کے اجلاس میں ہوئیں اُن پر عمل درآمد کیا جائے اور اسے صرف باتوں تک محدود نہیں رکھا جائے گا، اگر ماضی میں پیش کی گئی قرار دادوں پر عمل کیا جاتا تو آج صورتحال برعکس ہوتی، انہوں نے کہا کہ آج کا اجلاس اپوزیشن کے مطالبے پر بلایا گیا جس کا سہرا اپوزیشن لیڈر کے سر جاتا ہے‘‘۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ’’کشمیر کے معاملے کو سنجیدگی سے حل کے لیے اقدامات بروئے کار لائیں جائیں، آخر کب تک ہم کشمیر کے نام پر سیاست کریں گے اور کب تک کشمیری بھارتی مظالم کا نشانہ بنتے رہیں گے؟‘‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے بے نظیر بھٹو کو دبئی میں رُک کر الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا تاہم وہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر ملک واپس آئیں اور جمہوریت کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، آج کا اجلاس انہی کی قربانیوں کا ثمر ہے‘‘۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آج اپوزیشن کی تمام جماعتیں کرپشن اور احتساب  کی بات کررہی ہیں مگر حکمراں اس پر بات نہیں کرتے جو جمہوری رویہ نہیں، اب وقت ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کریں۔

مسئلہ کشمیر ہر فورم پر اٹھایا جائے، مولانا فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے اور مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اٹھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو متفقہ طور پر پیغام دے رہے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں