تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

چوتھے دن میدان میں اترنے کا ارادہ نہیں تھا، ویسٹ انڈین ہیرو جوزف

ویسٹ انڈیز کے یادگار فتح کے مرکزی کردار شمر جوزف نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کیخلاف چوتھے دن میدان میں اترنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

دوسرے ٹیسٹ میں مچل اسٹارک کی یارکر کی وجہ سے ہفتے کو شمر جوزف کا انگوٹھا زخمی ہوگیا تھا اور وہ کافی تکلیف میں گراؤنڈ سے باہر گئے تھے۔ ٹیم ڈاکٹر نے ان کے زخمی انگوٹھے کی بروقت ٹریٹمنٹ کی تھی جس کی وجہ سے وہ کھیلنے کے قابل ہوئے۔

بعد ازاں جوزف نے چوٹ لگنے کے بعد ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کیا اور فریکچر سے چھٹکارہ حاصل کرتے ہوئے بہترین پرفارمنس دی۔ انھوں نے آخری اننگز میں 68 رنز دے کر سات وکٹیں لیں۔

شمر جوزف نے پہلے سیشن میں 10 اوور کا اسپیل کیا جبکہ دوسرے سیشن میں انھوں نے دو اوورز کیے، دونوں بار انھوں نے آسٹریلیا کی اہم پارٹنرشپس توڑیں۔

ویسٹ انڈین بولر نے فتح کے بعد کہا کہ میں آج گراؤنڈ میں اترنے والا نہیں تھا لیکن ڈاکٹر کا شکریہ کہ انھوں نے بہتر علاج کرتے ہوئے میرے پاؤں کو بہتر بنانے میں مدد کی۔

شمر نے کہا واقعی میرے لیے یہ سب حیرت انگیز ہے، میرے ساتھیوں اور عملے نے اچھی باؤلنگ کرنے کے لیے مجھے بہت سپورٹ کیا۔ میں اپنی ٹیم ملک اور کیریبین کے ہر فرد کے لیے یہ کرنا چاہتا تھا۔

واضح رہے کہ ویسٹ انڈیز نے برسبین ٹیسٹ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد ورلڈ چیمپئن آسٹریلیا کو 8 رنز سے شکست دے کر تاریخ رقم کی تھی۔

ویسٹ انڈیز نے سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میں جیت کے لیے میزبان کو 215 رنز کا ہدف دیا تھا جس کے تعاقب میں آسٹریلیا 207 رنز پر ڈھیر ہو گیا۔ اسٹیو اسمتھ نے نا قابل شکست 91 رنز اسکور کیے، اس کے علاوہ کوئی کینگرو بیٹر کریز پر نہ ٹک سکا۔

یہ ویسٹ انڈیز کی آسٹریلیا کے خلاف 27 سال بعد کسی ٹیسٹ میچ میں پہلی فتح ہے۔ جس کا سہرا کیربیئن بولر شمر جوزف کو جاتا ہے جنھوں نے دوسری اننگ میں 7 آسٹریلوی بلے بازوں کو پویلین بھیجا۔

جوزف نے پہلی اننگز میں 2 جب کہ میچ میں مجموعی طور پر 9 وکٹیں حاصل کیں، سیریز میں ان کی وکٹوں کی مجموعی تعداد 13 رہی۔

ویسٹ اندین نوجوان پیسر کو ان فتح گر کارکردگی پر نہ صرف میچ بلکہ سیریز کا بھی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

Comments

- Advertisement -