The news is by your side.

Advertisement

امی یا ابو! بچوں میں موروثی خصوصیات کس سے زیادہ منتقل ہوتی ہیں؟

بچوں کی کامیابی میں والدین کا کردار بہت اہم ہوتا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اولاد کو ورثے میں ملنے والی ذہانت ماں کی طرف منتقل ہوتی ہے یا باپ کی جانب سے؟

ویسے تو عام خیال یہ ہے کہ موروثی طور پر باپ اور ماں دونوں سے بچوں کو ورثے میں بہت کی عادات منتقل ہوتی ہے مگر اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مخصوص جینز مختلف طریقے سے کام کرتے ہیں اور ان کے افعال کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ وہ ماں کی جانب سے ہیں یا باپ کی جانب سے۔

اے آر وائی اپنے قارئین کو ایک تحقیق کی بناء پر بتا رہا ہے کہ بچوں کی ذہانت کا بڑا حصہ انہیں ماں سے ورثے میں ملتا ہے۔

یہ دعویٰ ایک تحقیق میں سامنے آیا جس سے متعلق کراچی یونیورسٹی کی مالیکیولر جینیٹکس سینٹر کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ بدر نے کہا کہ بچوں کو اپنی ذہانت کے لیے ماں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر عظمیٰ کا کہنا تھا کہ ایک تحقیق میں 12 ہزار کے قریب خواتین اور بچوں کی ذہانت کا جائزہ لیا گیا جس سے پتہ چلا کہ جو مائیں ذہین تھی ان کے بچوں میں بھی ویسی ہی ذہانت منتقل ہوئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں موروثی خصوصیات کا 60 فیصد حصّہ باپ سے منتقل ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق بچوں کے فنگر پرنٹس باپ سے مماثلت رکھتے ہیں اور قد بڑھنے کی خصوصیات بھی باپ سے منتقل ہوتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں