بدھ, مئی 22, 2024
اشتہار

"کروڑوں روپے” رشوت لے کر امتحانی پرچہ دینے والے ٹیچر کے ساتھ کیا ہوا؟

اشتہار

حیرت انگیز

امتحانات میں نقل کا رجحان عرصے سے جاری ہے لیکن بھارت میں ایک ٹیچر کروڑوں روپے رشوت کے عوض امتحانی پرچہ حل کرتے پکڑا گیا۔

پاکستان، بھارت سمیت خطے کے کئی ممالک میں امتحانات میں نقل کا رجحان پایا جاتا ہے اور اس کے لیے گزرتے وقت کے ساتھ نت نئے اور جدید طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جب کہ پرچوں کے حل میں مدد کے لیے نقل کے عوض رشوت ایک اہم عنصر ہے۔

تاہم قارئین یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ پڑوسی ملک بھارت کی ریاست گجرات میں امیدواروں کے امتحانی پرچے حل کرتے پکڑا گیا جس کے لیے اس نے کروڑوں روپے رشوت طلب کی تھی۔

- Advertisement -

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ امتحان میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لیے دیے جانے والے نیشنل الیجیبیلٹی کم انٹری ٹیسٹ (این ای ای ٹی) تھا جس کے حل کے لیے تشار بھٹ نامی فزکس کے ایک ٹیچر نے 16 امیدواروں سے فی کس 10 لاکھ بھارتی روپے (پاکستانی لگ بھگ 33 لاکھ) رشوت طلب کی تھی اور ایڈوانس کے طور پر 7 لاکھ روپے وصول بھی کیے تھے۔

تشار بھٹ جو امتحانی مرکز میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے طور پر ذمے داریاں ادا کر رہا تھا۔ اس نے امیدواروں کے ساتھ پرچے حل کرنے کے لیے یہ طریقہ طے کیا گیا تھا کہ امیدواروں کو ان سوالات کے جوابات کی جگہ خالی چھوڑ دینی تھی جن کے جوابات انہیں نہیں آتے تھے جن کو بعد ازاں پیپر لینے والے ٹیچر نے خود حل کرنا تھے۔

تاہم اس لین دین کی بھنک محکمہ تعلیم کے حکام کو ملی تو انہوں نے فوری طور پر وہاں چھاپہ مارا اور تشار سے پوچھ گچھ کی۔

ٹیچر کے کنی کترانے پر جب ٹیم نے اس کا موبائل فون چیک کیا تو اس میں 16 امیدواروں کے نام، رول نمبرز اور امتحانی مراکز کی تفصیلات سامنے آ گئیں جو اس نے اپنے معاون کو واٹس ایپ پر بھیجی تھیں۔

محکمہ تعلیم کے حکام نے پولیس کے ذریعے تشار اور اس کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر کے مرکزی ملزم کی گاڑی سے 7 لاکھ روپے بھی برآمد کر لیے۔

بعد ازاں ملزم نے امیدواروں کا پرچہ حل کرنے کے لیے فی کس 10 لاکھ روپے رشوت لینے کا اعتراف کیا جب کہ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں