The news is by your side.

’سی پی آر‘ دیتے وقت جسم میں کیا ہوتا ہے؟ ویڈیو دیکھیں

موسم گرما میں شہریوں کی بڑی تعداد ساحل کا رخ کرتی ہیں اور اس دوران بلند لہروں کی وجہ سے وہ ڈوب جاتے ہیں لیکن انہیں بچا لیا جاتا ہے اور فوری سی پی آر دیا جاتا ہے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ سی پی آر دیتے وقت جسم کے اندر کی کیا کیفیت ہوتی ہے ویڈیو دیکھیں اور جانیں۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سی پی آر دیتے وقت جسم میں بند خون کی رفتار اچانک چلنے لگ جاتی ہے اور سانس بھی بحال ہوجاتی ہے۔

سی پی آر کا طریقہ

طبی ماہرین کے مطابق سی پی آر کمپریشن کے لیے پسلیوں کے درمیان سینے کی ہڈی پر دائیں ہاتھ کی ہتھیلی اس طرح رکھیں کہ اس رخ قلب کی جانب ہو، پھر اسی ہاتھ کے اوپر اپنا بایاں ہاتھ رکھیں، اور گنتی شروع کرکے تیس مرتبہ سینے میں دو انچ گہرائی کے حساب سے کہنیوں کو خم دیے بغیر جھٹکے دیں۔

اس کے بعد متاثرہ شخص کا سر تھوڑا سا پیچھے لے جاکر دوانگلیوں کی مدد سے اس کی ٹھوڑی کا رخ آسمان کی طرف کرکے منہ کے اوپر ململ کا کپڑا رکھ دیں اور دو مرتبہ مریض کے منہ پر منہ رکھتے ہوئے اتنے زور سے پھونک ماریں کہ مریض کے پھیپھڑے ہوا سے بھر جائیں۔ اس عمل کے بعد دوبارہ گنتی شروع کرکے تیس مرتبہ کمپریشنز دینا شروع کریں، یہاں تک کہ مریض لمبی سانس لے اور اس کی حرکت قلب بحال ہوجائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کامیاب سی پی آر کے بعد بعض افراد میں الٹیاں، کنفیوژن یا بے ہوشی پائی جاسکتی ہے۔جبکہ مزید پیچیدگیوں میں ہلکا بخار، متلی، یا پھیپھڑوں میں سوجن کی شکایت شامل ہے۔

’عارضی طور پر ٹھیک ہونے کے بعد بھی اڑتالیس گھنٹوں تک مریض کی حالت خطرے میں رہتی ہے، لہذا ایسے مریضوں کو ٹھیک ہونے کے باوجود ہسپتال پہنچایا جائے۔‘

طبی ماہرین کے مطابق بچوں کے لیے سی پی آر کا عمل قدرے مختلف ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے بچوں کو منہ سے آکسیجن دیتے وقت زیادہ زور سے پھونک نہیں مارنی چاہیے بلکہ ہلکی پھونک ہی کافی ہوتی ہے، جبکہ سینے پر جھٹکے دیتے وقت بھی دباؤ کم رکھا جائے۔

سی پی آر کے لیے تجاویز

طبی ماہرین کے مطابق سیر کی جگہوں پر جاتے وقت ایک فرسٹ ایڈ کٹ لازمی ساتھ لے کرجائیں اور اس میں ایک ململ کا کپڑا بھی ضرور رکھیں۔

ململ کا کپڑا نہ ہونے کی صورت میں اکثر مرد حضرات خواتین کی ماؤتھ ٹو ماؤتھ آکسیجینیشن کرنے سے کتراتے ہیں۔

سی پی آر کے دوران پسلیاں ٹوٹنے کا خدشہ رہتا ہے، تاہم پسلیاں ٹوٹنے کی آوازسن کر سینے پر جھٹکے دینے کا عمل نہیں روکنا چاہیے۔

ایمرجنسی کے وقت اگر سینے پر کمپریشنز یعنی جھٹکے دینے کے طریقہ کار پر شبہات ہوں، پھر بھی یہ عمل نہیں روکنا چاہیے، کہ کسی کے مرنے سے بہتر ہے کہ اس کو سینے پر غلط طریقے سے ہی جھٹکے دے کر بچایا جائے۔

بچوں کو ماؤتھ ٹو ماؤتھ آکسیجینیشن کے وقت زیادہ دباؤ سے آکسیجن نہیں دینی چاہیے ہلکی پھونک مارتے رہنا چاہیے۔
سی پی آر سے بچنے کے لیے پانی کے نزدیک جانے سے گریز کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں