The news is by your side.

Advertisement

باڈی لینگویج کیا ہوتی ہے؟ دل چسپ مطالعہ!

ہم سب ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گفتگو کا واسطہ (Medium) صرف ایک ہے یا اس سے زیادہ؟

الفاظ کے توسط سے تو اظہار کیا ہی جاتا ہے، لیکن اور نہ جانے کتنے پیغامات ایسے ہیں جو لفظی گفتگو کے ساتھ ساتھ الفاظ کے بغیر مخاطب کا جسم دیتا رہتا ہے۔ ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ زیادہ تر ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم الفاظ کے بغیر بھی محو گفتگو ہیں یا ہوجاتے ہیں۔ عموماً دونوں واسطوں سے گفتگو جاری رہتی ہے۔

الفاظ والی گفتگو کو بے ضابطہ، بے الفاظ گفتگو زیادہ اثر پزیر بناتی رہتی ہے یعنی جسم کی ایک اپنی زبان ہوتی ہے۔ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ زیادہ تر ہمیں اس کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم بہ یک وقت دونوں زبانیں استعمال کررہے ہیں یا کرتے ہیں۔

انسان کے چند اعضا کی معنی خیز حرکت ایک دل چسپ مطالعہ ہے۔ پیشانی کی شکن، ابرو کی حرکت، آنکھیں پوری طرح کھل جانا یا نیم وا ہوجانا، لبوں کی خفیف تھر تھراہٹ، آنکھیں چار ہونا، انگلیاں چٹخنا، چٹخانا، ٹانگوں کی حرکت یہ سب کے سب ”جسم کی زبان“ کا حصہ ہیں۔ اب تک ان کی باضابطہ ترتیب میسر نہیں ہے۔

ہر معاشرے میں جسم کی اس زبان کا انداز جداگانہ ہے۔ مشہور ہے کہ ”فرانس کے باشندوں کا بولنا اور ہلنا دونوں فرانسیسی میں ہوتا ہے۔“ انگریز جب اپنی ٹانگیں ایک دوسرے پر رکھتے ہیں تو امریکیوں کے لیے اس کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔ امریکی اپنی بات ختم کرتے ہوئے اپنا سر یا ہاتھ جھکا لیتا ہے۔ اس کا دیدہ بھی نیچے کی جانب جھک جاتا ہے۔ سوال ختم کرتے ہوئے ہاتھ اوپر کی جانب لے جاتا ہے یا اپنی آنکھیں پوری طرح کھول دیتا ہے اگر بات مستقبل پر ختم کررہا ہے تو عموماً آگے کی طرف بڑھنے کی علامتیں ظاہر کرے گا۔

(پروفیسر نجم الہدیٰ کے مضمون ”گفتگو کے دائرے“ سے اقتباس)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں