The news is by your side.

Advertisement

کورونا کا شکار ہونے کے بعد سب سے پہلی علامت کیا ہوتی ہے؟

عالمی کورونا وبا کی مختلف علامات ہوتی ہیں جن میں بخار، خشک کھانسی، درد اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی نمایاں ہیں جبکہ کئی کیسز میں علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں۔

طبی ماہرین کی نظر میں یہ سوال رہا ہے کہ مہلک وائرس کا شکار ہونے کے بعد کونسی علامت پہلے ظاہر ہوتی ہے؟ حالیہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی پہلی علامت بخار یا خشک کھانسی ہوتی ہے مگر ایسا ضروری نہیں بلکہ یہ سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی ہوسکتی ہے۔

یورپی ملک اٹلی میں ہونے والی تحقیق میں 93 ایسے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جو مارچ 2020 میں کووڈ کے باعث اسپتال میں زیرعلاج ہوئے مگر آئی سی یو کی ضرورت نہیں پڑی ان میں دو تہائی ایسے مریض تھے جن میں سونگھنے اور چکھنے جیسی علامات ظاہر ہوئیں اور ان میں لگ بھگ 25 فیصد نے بتایا کہ یہ بیماری کی پہلی علامات تھیں۔

تحقیق کے مطابق ان دو تہائی افراد میں کورونا کی تشخیص پی سی آر ٹیسٹ اور پھیپھڑوں کے ایکسرے یا اسکین کے ذریعے کی گئی۔ جبکہ 93 افراد سے پوچھا گیا تو ان میں سے 63 فیصد نے سونگھنے اور چکھنے کی حس سے محرومی کا بتایا۔

اعداد کے حساب نے ان افراد کی تعداد 58 بنتی ہے جن میں سے 13 نے اسے بیماری کی پہلی علامت بتایا، سونگھنے اور چکھنے کی حس سے محرومی کا اوسط دورانیہ 25 سے 30 دن کا تھا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ریسرچ میں شامل تمام افراد نے بخار کھانسی سمیت دیگر علامات سے پہلے حس سے محرومی کی شکایت کی۔

کورونا کی شدت خواتین سے زیادہ مردوں میں کیوں ہوتی ہے؟ اہم دریافت

انہوں نے بتایا کہ سونگھنے اور چکھنے کی حس سے محرومی کورونا کی ابتدائی نشانیاں ہیں۔

اس سے قبل بھی اس حوالے سے مختلف تحقیق ہوچکی ہیں۔ حال ہی میں 11 ہزار سے زائد افراد پر ہونے والی 8 تحقیقی رپورٹس کے تجزیے میں دریافت کیا گیا تھا 50 فیصد سے زیادہ افراد میں یہ علامت دیگر علامات سے پہلے نظر آئی۔

اطالوی ماہرین کے مطابق اب سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی کو ابتدائی علامت سمجھا جانا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں