The news is by your side.

Advertisement

برطانوی شہریوں کی سگریٹ نوشی سے دوری، وجہ کیا ہوئی؟

لندن : لاکھوں برطانوی شہریوں نے کوویڈ 19 کی مہلک وبا میں مبتلا ہونے سے بچنے کےلیے سگریٹ نوشی چھوڑ دی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی مہلک ترین وبا نے دنیا بھر میں اپنا خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے تاہم سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں برطانیہ، امریکا اور یورپی ممالک شامل ہیں۔

غیر ملکی ذرائع کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر لاکھوں برطانوی شہریوں سے سگریٹ نوشی ترک کردی ہے جبکہ ایسی تحقیق بھی سامنے آئی ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کرونا وائرس کا شکار نہیں ہوتے کیونکہ نکوٹین وائرس سے مقابلہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اب تک لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں لیکن ان میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کی تعداد ناہونے کے برابر ہے۔

برطانیہ کی ایک سروے کمپنی نے اس حوالے سے عوامی رائے جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ تین لاکھ افراد سگریٹ نوشی چھوڑ چکے ہیں، سروے کے دوران 1004 افراد سے بات کی گئی جن میں سے 2 فیصد افراد نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا بتایا۔

سروے کے مطابق پانچ لاکھ کے قریب افراد سگریٹ نوشی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ 24 لاکھ افراد سگریٹ نوشی میں کمی کرچکے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کی جانب سے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد بھی سگریٹ نوشی ترک کردیں گے۔

خیال رہے کہ برطانیہ، چین، امریکا، جنوبی کوریا، فرانس اور دیگر ممالک میں کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ سگریٹ نوشی کرنے والوں پر کرونا وائرس کے اتنے خطرناک اور مہلک اثرات مرتب نہیں ہوئے جتنا کہ ان افراد پر ہوئے جو کہ سگریٹ نوشی نہیں کرتے تھے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں