The news is by your side.

Advertisement

طب کے ‘نوبیل انعام’ کا حقدار کون ہوگا؟ ماہرین کا بڑا دعویٰ

ماہرین صحت اور سائنسدانوں کی جانب سے چہ مگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ ممکنہ طور پر سال 2021 کا ’میڈیسن‘ (طب) کا نوبیل انعام کسے دیا جائے گا؟

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق معتبر ایوارڈ دینے والی سویڈش اکیڈمی آف نوبیل پرائز آئندہ ہفتے طب کے نوبیل انعام جیتنے والوں کا اعلان کرے گی، اکتوبر کے پہلے ہفتےمیں ایوارڈز کے کامیاب افراد کے اعلانات کرتی ہے اور جیتنے والوں کو ہر سال دسمبر میں ایوارڈز دیئے جاتے ہیں۔

کئی ماہرین صحت اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس سال نوبیل انعام کرونا ویکسین بنانے والے افراد کو دیا جائے گا، تاہم بعض نے اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے نقطہ اٹھایا کہ ابھی وبا ختم نہیں ہوئی اور ویکسین کی افادیت پر بھی دنیا متفق نہیں، اس لیے اس بار ویکسین بنانے والوں کا انعام نہیں دیا جائے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جوماہرین مانتے ہیں کہ کرونا ویکسین بنانے والوں کو جلدی میں نوبیل انعام نہیں دیا جا سکتا وہ بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں اس سال نہیں تو آنے والے سالوں میں کرونا سے تحفظ کی ویکسین بنانے والوں کو نوبیل پرائز دیا جائے گا جبکہ کئی ماہرین کے نزدیک ممکنہ طور پر نوبیل پرائز کمیٹی ’ایم این آر اے‘ ویکسین فارمولہ بنانے والے سائنسدانوں کوانعام دے سکتی ہے۔

’ایم این آر اے‘ ویکسین فارمولے کو پہلی بار 1961 میں دریافت کیا گیا تھا اور اس سے کئی طرح کی ویکسینز بنا کر مختلف بیماریوں اور وباؤں کا علاج کیا جاتا رہا ہے اور اب اسی فارمولے کے تحت فائزر اور موڈرینا نے بھی ویکیسنز بنائی ہیں۔

فائزر کی ’ایم این آر اے‘ کے فارمولے پر بنائی گئی ویکسین کو محض دو ماہ کے اندر استعمال کرنے کی اجازت حاصل ہوئی اور اب ان کی ویکسین کو اضافی ڈوز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہیں کہ اگرچہ کرونا سے تحفظ کی ویکسین نے تاحال وبا کو ختم کرنے میں مدد نہیں دی لیکن اس سے کئی امیر ممالک میں حالات معمول پر آچکے ہیں اور جہاں ویکسینیشن کا عمل تیز ہے، وہاں معمولات زندگی بحال ہوتی جا رہی ہے۔

گزشتہ برس طب کا نوبیل انعام برطانیہ کے سائنسدان مائیکل ہوٹن اور امریکا کے ہاروی آلٹر اور چارلز رائس کو مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کیا تھا، تینوں سائنسدانوں کو ‘ہیپاٹائٹس سی’ کا مرض دریافت کرنے پر انعام دیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں