The news is by your side.

Advertisement

صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے؟ واٹس ایپ نے بتادیا

سان فرانسسکو: پیغام رسانی کے لیے استعمال ہونے والی موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ کی نئی پرائیوسی پالیسی پر صارفین کا تاحال اعتماد برقرار نہیں ہوسکا، یہی وجہ ہے کہ کمپنی آئے روز یقین دہانی کے لیے کوئی نہ کوئی اعلان کرتی ہے۔

پرائیویسی پالیسی کی تبدیلی کے بعد صارفین کی دلچسپی کو بڑھانے کے لیے کمپنی نے ایک بار پھر اقدامات شروع کردیے ہیں تاکہ اُن کا اعتماد بحال ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایک بار پھر پلیٹ فارم پر لایا جائے۔

نئی پالیسی سامنے آنے کے بعد یہ افواہیں زیرگردش تھیں کہ واٹس ایپ نے اپنے صارفین سے تمام قسم کے ڈیٹا کی منتقلی کی اجازت مانگ لی ہے جس کے بعد کمپنی اپنی مرضی سے یہ تفصیلات فیس بک سمیت کسی بھی تھرڈ پارٹی کو فروخت کرسکتی ہے۔

اب ایک بار پھر واٹس ایپ نے صارفین کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اُن کی چیٹ کی تصویر شیئر کیں اور بتایا کہ صارفین کا ڈیٹا ٹیکنالوجی لیئرز (تہوں) کی صورت میں محفوظ ہوتا ہے۔

واٹس ایپ نے بتایا کہ ’ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سسٹم جدید ہے، جہاں صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت لیئرز کی صورت میں کیا جاتی ہے‘۔ کمپنی نے ایک بار پھر سیکیورٹی کی ضمانت لیتے ہوئے صارفین کے پیغام کی تصویر شیئر کی ، جس میں کچھ بھی پڑھنے کے قابل نہیں تھا۔

واٹس ایپ نے صارفین سے کہا کہ ’یہ آپ کو بتانا ضروری ہے کہ آپ کا پیغام ایسے نظر آتا ہے جسے کوئی پڑھ نہیں سکتا‘۔

اس سے قبل واٹس ایپ کے سربراہ بھی صارفین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا تفصیلی جواب دے چکے ہیں مگر سوشل میڈیا پر یہ معاملہ تاحال زیر بحث ہے۔

مزید پڑھیں:  واٹس ایپ استعمال کرنے کیلیے اب انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں رہے گی

انہوں نے ’کچھ افواہوں‘ کا جواب قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ صارفین کا ڈیٹا مکمل محفوظ ہے، اُن کے پیغامات انکرپٹڈ ہی رہیں گے۔

قبل ازیں میسیجنگ ایپ یہ بھی آگاہی فراہم کر چکی ہے کہ’اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن‘ کی موجودگی کی صورت میں صارف کی گفتگو کو پہلے کی طرح واٹس ایپ سمیت کوئی بھی کمپنی نہیں دیکھ سکے گی۔

واٹس ایپ کی جانب سے جاری کردہ وضاحت کے اہم نکات

واٹس ایپ، فیس بک سمیت کوئی بھی کمپنی صارف کے پرائیوٹ میسجز یا کالز تک رسائی حاصل نہیں کرسکتی۔

واٹس ایپ کے پاس یہ ریکارڈ ظاہر نہیں ہوگا کہ صارف کے پاس کس کا پیغام یا کال آئی۔

کمپنی نے وضاحت کی کہ واٹس ایپ اور فیس بک صارف کی شیئر کردہ لوکیشن نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی کوئی اُس کی مانیٹرنگ کا مجاز ہوگا۔

صارف کے واٹس ایپ پر موجود نمبر فیس بک سمیت کسی بھی کمپنی کے ساتھ شیئر نہیں کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ کا بڑا فیصلہ

واٹس ایپ کے تمام گروپس پرائیوٹ رہیں گے اور اُن کی چیٹ تک کسی کی رسائی ممکن نہیں ہوگی۔

صارف کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ موصول ہونے والے میسج خود بہ خود غائب کرنے کی سہولت سے استفادہ کرسکتا ہے، ایسے پیغامات متعلقہ وقت کے بعد سسٹم سے بھی خود بہ خود ختم ہوجائیں گے۔

صارف اپنا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کر سکے گا۔ جس کے ذریعے وہ یہ دیکھ سکے گا کہ واٹس ایپ کے پاس اس کی کون کون سی ذاتی معلومات موجود ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں