The news is by your side.

Advertisement

واٹس ایپ پر ٹیکس کا اعلان، پُرتشدد مظاہرے شروع

بیروت : لبنان اندورنی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبنے کے ساتھ ساتھ کئی سنگین معاشی مسائل سے دوچار ہے، حکومت کی ناقص اقتصافی پالیسیوں کے خلاف عوام پُر تشدد مظاہرے اور احتجاج جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق عراق میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف پُرتشدد مظاہروں کے بعد لبنان میں بھی ابتر معاشی حالات اور حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کے خلاف عوام پر تشدد مظاہرے اور احتجاج شروع کردیا ہے۔

لبنان میں دارالحکومت بیروت اور دیگر شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں ٹیکسوں اور ابتر معاشی حالات کے خلاف پرتشدد مظاہرے شروع کیے۔

لبنانی دارالحکومت بیروت کے مرکز میں بڑی تعداد میں لوگ حکومت گرانے کے نعرے کے ساتھ سڑکوں پرآگئے۔

لبنان کے وزیر مواصلات محمد شقیر نے مظاہروں اور عوامی احتجاج کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ سب مظاہرے نہیں فسادات ہیں جن کے پیچھے بیرونی ہاتھ ملوث ہیں۔

لبنان میں پرتشدد احتجاج اس وقت شروع ہوا جب حکومت کی طرف وٹس اپ کے ذریعے کال پر ٹیکس عاید کرنے کا اعلان کیا گیا، اس اعلان پرعوام مشتعل ہوگئے اور انہوں نے گھروں سے نکل کر جلاؤ گھیراؤ اور توڑپھوڑ شروع کردی۔

اطلاعات کے مطابق پرتشدد مظاہروں کے دوران چالیس سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں عام شہری اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق یہ واقعات اس وقت سامنے آئے جب لبنانی حکومت کی جانب سے واٹس ایپ اور اسی طرح کی دیگر آن لائن سروسز پر ٹیکس لگانے کا اعلان کیا گیا۔

مقامی میڈیا نے کہا کہ لبنانی حکومت نے سوشل میڈیا پر کال ٹیکس واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے کہ لبنان اندورنی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبنے کے ساتھ ساتھ کئی سنگین معاشی مسائل سے دوچار ہے، شرح نمو نہ ہونے کے برابر ہے ۔ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے منصوبے تعطل کا شکار ہیں ۔ حکومت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے اقتصادی ایمرجنسی نافذ کرنے کے اعلانات کررہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں