The news is by your side.

Advertisement

واٹس ایپ کی نئی متنازعہ پالیسی کے حوالے سے اہم خبر سامنے آ گئی

واٹس ایپ نے نئی متنازعہ پالیسی کے سلسلے میں نوٹیفکیشنز بھیجنے کا سلسلہ پھر شروع کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فیس بک کی زیر ملکیت کمپنی کی جانب سے واٹس ایپ کی نئی پالیسی قبول کرنے کے نوٹیفکیشن بھیجنے کا سلسلہ پھر شروع کر دیا گیا ہے، دنیا بھر میں شدید رد عمل کے باعث پرائیویسی پالیسی کا اطلاق 15 مئی تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

نئی پالیسی سے متعلق یہ الرٹس اس بار ان صارفین کو بھیجے جا رہے ہیں جنھوں نے اسے قبول نہیں کیا تھا، یعنی اگر جنوری میں کسی نے نئی پالیسی سے متعلق نوٹیفکیشن کو قبول کر لیا تھا تو انھیں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔

واٹس ایپ بیٹا انفو ویب سائٹ کے مطابق کمپنی کی جانب سے صارفین کو بتایا جا رہا ہے کہ نئی پالیسی اور اصول و ضوابط کا اطلاق 15 مئی سے ہوگا۔

نوٹیفکیشن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ واٹس ایپ میں تمام چیٹس اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہوں گی، کاروباری اداروں سے چیٹ کو آسان بنایا جا رہا ہے، جس کا کچھ حصہ فیس بک سے شیئر کیا جا سکتا ہے، مگر صارف اس کا انتخاب اپنی مرضی سے کرے گا۔

عوامی تنقید نظر انداز، واٹس ایپ کا بڑا فیصلہ

واٹس ایپ نے واضح کیا ہے کہ ہم صارفین کی نجی گفتگو کو نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ سن سکتے ہیں، کیوں کہ یہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہے، اور اسے کبھی تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

چوں کہ میسجز اور کالز اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہوتی ہیں اس لیے واٹس ایپ اور فیس بک اسے نہیں دیکھ سکتے، نہ سن سکتے ہیں، نہ ہی یہ واٹس ایپ یا فیس بیک پر شیئر ہوتی ہیں، صرف شرکا ہی انھیں دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نئی پالیسی کو قبول نہ کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوگا مگر اس حوالے سے فروری میں ایک رپورٹ میں تفصیلات سامنے آئی تھیں، اگر کمپنی کے مطالبے پر بھی صارفین کی جانب سے نئی پالیسی کو تسلیم نہیں کیا گیا تو مختصر مدت کے لیے وہ افراد کالز اور نوٹیفکیشن تو موصول کر سکیں گے مگر ایپ میں میسجز بھیج یا پڑھ نہیں سکیں گے۔

واضح رہے کہ واٹس ایپ نے رواں برس جنوری میں صارفین کو نئی پرائیویسی پالیسی سے متعلق نوٹیفکیشنز بھیجے تھے، جن میں کہا گیا تھا کہ نئی پالیسی کا نفاذ 8 فروری سے ہوگا تاہم لوگوں کے شدید رد عمل پر اس پالیسی کا اطلاق 15 مئی تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں