The news is by your side.

Advertisement

’کرونا ویکسین‘ سے مریضوں کا علاج کب شروع کیا جائے گا؟

لندن: برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کرونا کی ممکنہ ویکسین تیار کرچکی ہے اور 10 ہزار کے قریب رضاکاروں پر آزمائش کا سلسلہ بھی جاری ہے، رواں سال اگست تک ویکسین علاج کے لیے دستیاب ہوسکتی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے تیارہ کردہ ویکسین کا ٹرائل مرحلہ تیزی سے جاری ہے، آزمائشی سلسلے میں دس ہزار کے قریب رضاکار حصہ لے رہے ہیں جن کی عمریں 70 سال کے لگ بھگ ہے، رضاکاروں میں کم عمر کے لوگ بھی شامل ہیں۔

کرونا ویکسین کی تیاری میں شامل کمپنی ’اسٹرا زینیکا‘ پیشگی اعلان کرچکی ہے کہ انسانوں پر کامیاب تجربے کے بعد 30 ملین کے قریب ویکسین کی خوراک تیار کریں گے۔

پہلی کورونا ویکسین کی دستیابی : برطانوی ماہرین کا اہم انکشاف

ابتدائی طور پر یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ویکسین رواں سال اگست میں ہی علاج کے لیے دستیاب ہوگی، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ویکسین کی تیاری میں ابھی کئی مہینے لگ سکتے ہیں، کئی سانس دانوں کا خیال ہے کہ تمام آزائشی مراحل سے گزرنے کے بعد ویکسین اکتوبر تک حتمی طور پر تیار ہوگی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ’اڈریان ہل‘ کا کہنا تھا کہ رواں سال اگست سے ستمبر تک کرونا ویکسین سے متعلق حتمی رائے سامنے آئے گی، اکتوبر میں مارکیٹس میں دوا کی فراہمی کا آغاز ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ مذکورہ یونیورسٹی کے علاوہ دینا بھر میں سائنس دان کرونا علاج کی دریافت میں جٹے ہوئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں