The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کہاں سے پھیلا؟ تحقیق میں حیران کن انکشاف

واشنگٹن : امریکی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ مہلک ترین وبا کرونا وائرس کے لیبارٹری کی نسبت فطرت کی پیداوار ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے تحقیق میں دو امریکی محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ کرونا وائرس نے قدرتی ذخائر سے جنم لیکر انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ مشہور ارتقائی متعدی امراض کے ماہرین نے مارچ 2020 میں معلوم کرلیا تھا کہ اس وائرس کو لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا نہ ہی وائرس میں لیبارٹری میں کوئی چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔

کیوں کہ وائرس کے کلیدی عنصر ٹوٹے ہوئے نہیں ہیں اور فیورین شگاف والی جگہ پر ایسی عجیب خصوصیات ہیں جسے کوئی انسان ڈیزائن نہیں کرسکتا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تحقیق سے وائرس کے منصوعی ہونے اور اسے انسانوں میں منتقلی کےلیے بنانے کے نظریات کی نفی ہوتی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ تحقیق نے عالمی ادارہ صحت کی کرونا وائرس کے ابتداء سے متعلق تحقیق ‘وائرس کے قدرتی ماخذ کے بارے میں اصل قیاس آرائی’ کو مزید تقویت ملتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں