The news is by your side.

مصر کی سحر انگیز شخصیت ’’قلوپطرہ‘‘ کا مقبرہ کہاں ہے؟ ماہر آثار قدیمہ کا انکشاف

قدیم مصر کی سحر انگیز شخصیت قلوپطرہ کا مقبرہ کہاں ہے یہ انکشاف 20 سال سے اس کی تلاش میں سرگرداں ماہر آثار قدیمہ نے کر دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ملکہ قلوپطرہ جو اپنے سحر انگیز حسن کی بدولت ہزاروں سال بعد بھی مقبول ہیں۔ تاریخ دان اس کا مقبرہ تلاش کرنے میں ہزاروں سال سے سرگرداں ہے لیکن دو ہزار سال گزر جانے کے باوجود کوئی یہ معرکہ سر نہیں کر پایا تاہم اب ماہر آثار قدیمہ نے اس حوالے سے اہم انکشاف کیا ہے۔

سانتو دومنگو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ماہر آثار قدیمہ کیتھلین مارٹینز اور ان کی ٹیم جو گزشتہ 20 سال سے اس مہم کی سر کرنے کی جستجو میں مسلسل مصروف ہیں نے کہا ہے کہ ایسے سراغ ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قلوپطرہ کا مقبرہ مصر کے شمالی ساحلی علاقے (ٹیپوسیرس میگنا) کے کھنڈرات میں ہوسکتا ہے۔

مذکورہ ٹیم جس نے مقبرے کی تلاش کی جستجو میں زیرسمندر 1305 میٹر لمبی سرنگوں کے جال کو دریافت کیا ہے جس کے ڈیزائن کو انجینئرنگ کا کرشمہ قرار دیا جارہا ہے۔

کیتھلین مارٹینز نے بتایا کہ اس کھدائی کے دوران اب تک سکندر اعظم اور ملکہ قلوپطرہ کے سکوں اور مجسموں سمیت دیگر 1500 سے زیادہ نوادرات دریافت ہوئے ہیں لیکن سب سے اہم دریافت سرنگوں کی ہے جو بحیرہ روم کی جانب جارہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تلاش کے دوران ایسے سراغ ملے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قلوپطرہ کا مقبرہ مصر کے شمالی ساحلی علاقے (ٹیپوسیرس میگنا) کے کھنڈرات میں ہوسکتا ہے اور اب وہ اگلے مرحلے میں اس زیر آب اسٹرکچر میں ملکہ قلوپطرہ کے گمشدہ مقبرے کو تلاش کریں گی۔

کیتھلین مارٹینز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسکندریہ میں 20 مقامات پر انہوں نے تحقیق کی مگر کوئی بھی جگہ (ٹیپوسیرس میگنا) جیسی نہیں ہے۔ اب تک کھدائی کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ زیرسمندر ایک قدیم مصری دیوی کا معبد اور سرنگیں موجود ہیں اور کیتھلین کے مطابق یہ بھی ایک اور اشارہ ہے کہ قلوپطرہ کا مقبرہ یہاں موجود ہے، کیونکہ قلوپطرہ کو اس مصری دیوی سے تشبیہہ دی جاتی تھی۔

کیتھلین کے مطابق ابھی کچھ کہنا تو قبل از وقت ہوگا مگر انہیں امید ہے کہ یہاں قلوپطرہ کا مقبرہ مل جائے گا۔ اگر یہ سرنگیں قلوپطرہ کے مقبرے کی جانب لے جاتی ہیں تو یہ اس صدی کی اہم ترین دریافت ہوگی۔

اس حوالے سے مصری وزارت سیاحت کا کہنا ہے کہ صدیوں سے اس ساحلی علاقے میں زلزلے آتے رہتے ہیں جس کے باعث یہ علاقہ منہدم ہوکر پانی میں ڈوب گیا ہے اور مقبرے کی تلاش کے لیے تحقیقاتی ٹیم زیر آب کھدائی کرنے والی ہے۔

یاد رہے کہ ملکہ قلوپطرہ مصر کی بطلیموس سلطنت کی آخری حکمران تھیں جو چھوٹی عمر میں تخت اقتدار پر براجمان ہوئی تھیں اور 51 قبل مسیح سے 30 قبل مسیح تک حکمرانی کرنے کے بعد 39 سال کی عمر میں خودکشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا تھا۔

تاریخ کی اس سحر انگیز شخصیت پر کئی فلمیں بھی بنی ہیں مگر مکمل حقائق سے دنیا ابھی بھی لاعلم ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں