The news is by your side.

Advertisement

یہ کونسا جزیرہ ہے؟ جہاں اب بھی پتھر کی کرنسی چلتی ہے

آسٹریلیا کے قریب واقع جزیرے پر اب بھی چونے سے بنے چکی نما پتھروں کو بطور کرنسی استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ سن کر ہمارے قارئین یقیناً دنگ رہ گئے ہوں کہ اس دور میں جہاں کرنسی اب نوٹوں اور سکوں سے بڑھ کر ڈیجیٹلائز ہوگئی ہے وہاں کوئی قوم ایسی بھی ہے جو پتھروں کو بطور کرنسی استعمال کررہی ہے۔

آسٹریلیا کے قریب واقع جزائر میں سے ایک یاپ یعنی جزیرے پر بسنے والے لوگ اب بھی چونے کے پتھر سے بنے چکی نما گول پتھر کو بطور کرنسی استعمال کررہے ہیں لیکن اس کی وجہ آج تک کوئی جان پایا کہ یہ لوگ ایسا کیوں کررہے ہیں اور پتھر والی کرنسی کا سلسلہ کب شروع ہوا۔

یاپ جزیرہ امریکا کے زیرِ انتظام ہے اور یہاں باضابطہ طور پر ڈالر استعمال کیا جاتا ہے لیکن مقامی افراد اب بھی پتھر کی کرنسی استعمال کرتے ہیں جن کا قطر 30 سینٹی میٹر سے ساڑھے تین میٹر تک ہے۔

پتھروں کی کرنسی میں سب سے زیادہ قیمتی پتھر وہ ہے جو سائز میں سب سے بڑا اور وزن میں سب سے زیادہ ہو۔

یونیورسٹی آف اوریگون میں بشریات اور مائیکرونیشیئن جزائر کے محقق ڈاکٹر اسکاٹ فزپیٹر کا کہنا ہے کہ ایک مہم جو نے چونے کے پتھر کو چکی نما بنایا تاکہ اسے گول پہیے کے طور پر استعمال کرسکے اور بعدازاں مقامی آبادی نے اسے بطور کرنسی استعمال کرنا شروع کردیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں