The news is by your side.

Advertisement

خبردار، سست رفتاری سے چلنا دل کے لیے خطرناک! نئی تحقیق

امریکا میں ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تیز چلنے والے افراد میں ہارٹ فیل کا خطرہ سست روی سے چلنے والے افراد کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔

دل کے امراض دنیا میں عام ہوچکے ہیں اور ہارٹ فیل کے باعث ہر سال لاکھوں افراد لقمہ اجل بنتے ہیں، بہت سے مریضوں کو تو اپنے اندر  ان علامات کا علم ہی نہیں ہوتا جو اس مرض کا سبب بنتی ہیں، اپنے روزمرہ کے معمولات میں ایک معمولی تبدیلی لاکر آپ بھی اس خطرے سے خود کو دور کرسکتے ہیں۔

امریکا کی براؤن یونیورسٹی میں ہارٹ فیلیئر کا اسباب جاننے سے متعلق ایک تحقیق ہوئی جس میں 50 سال سے زائد عمر کی 25 ہزار سے زائد خواتین کی صحت کا جائزہ لیا گیا اور ان کے چلنے کی رفتار کو جانچا گیا۔

تحقیق کے مطابق جن خواتین کا دعویٰ تھا کہ ان کے چلنے کی اوسط رفتار 2.3 میل فی گھنٹہ تھی ان میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ سست روی سے چلنے والوں کے مقابلے میں 27 فیصد کم دریافت ہوا، اسی طرح 3 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی خواتین میں یہ تناسب مزید کم ہوکر 34 فیصد ہوگیا۔

محقیقن نے اس تحقیق سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے بتایا کہ تیز چلنے والے افراد ممکنہ طور پر جسمانی طور پر زیادہ فٹ ہوتے ہیں جس کے مثبت اثرات دل کی شریانوں پر بھی پڑتے ہیں اور اس سے ہارٹ فیل کا خطرہ کم ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ چلنے کی رفتار سے دل کی صحت کا اندازہ ہوتا ہے اور نتائج سے گزشتہ تحقیقی رپورٹس کی بھی تصدیق ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اکثر افراد کے لیے ورزش کو عادت بنانا مشکل ہوتا ہے تو کم وقت کے لیے تیز رفتاری سے چلنا بھی ہر ہفتے 150 منٹ کی معتدل جسمانی سرگرمیوں جتنے فوائد جسم کو پہنچاسکتی ہے۔

محققین نے کہا کہ اس تحقیق سے ان افراد کی شناخت میں مدد مل سکے گی جن میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، لوگ چلنے کی رفتار کو بڑھا کر اس خطرے کو کسی حد تک کم کرسکتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ہر ہفتے ایک گھنٹے تک تیز چہل قدمی سے اس مرض کا خطرہ اتنا ہی کم کیا جاسکتا ہے جتنا کہ ہر ہفتے 2گھنٹے تک عام رفتار سے چہل قدمی، تیز چلنا دل کے دیگر امراض کا خطرہ بھی کم کرتا ہے، اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن گیراٹرکس سوسائٹی میں شائع ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ہارٹ فیلیئر ایسا ناقابل علاج مرض ہے جس میں دل جسمانی طلب کے مطابق خون فراہم کرنے سے قاصر ہوتا ہے جو موت کا باعث بنتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں