The news is by your side.

Advertisement

کرونا کی کون سی علامت سب سے پہلے ظاہر ہوتی ہے؟

کیلی فورنیا: سائنس دانوں نے ایک اہم تحقیق کے بعد یہ معلوم کر لیا ہے کہ کرونا وائرس لاحق ہونے کے بعد کون سی علامت سب سے پہلے ظاہر ہوتی ہے۔

اس سلسلے میں جنوبی کیلی فورنیا کی یونی ورسٹی میں کی جانے والی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ کرونا وائرس کے ایک مریض میں جس ترتیب سے علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، اس کی ترتیب کچھ اس طرح ممکن ہے: بخار، کھانسی، دل متلانا، قے اور پھر ہیضہ۔

اس تحقیق کے دوران ڈبلیو ایچ او کے ذریعے چین سے اکٹھے کیے گئے 55 ہزار سے زائد کرونا کیسز کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، یہ تحقیق طبی جریدے فرنٹیئرز اِن پبلک ہیلتھ جرنل میں شایع ہوئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض کیسز میں یہ ترتیب الٹی بھی دیکھی گئی ہے تاہم یہ بہت کم ہوتا ہے، یعنی سب سے پہلے ہیضے کی علامت نمودار ہوئی، پھر دل متلانے یا قے، پھر کھانسی اور آخر میں بخار کی علامت ظاہر ہوئی۔

محققین نے کرونا وائرس کی علامات کی جو ترتیب معلوم کی ہے، اسے معمولی شدت اور سنگین کیسز میں یکساں دیکھا گیا، انھوں نے کہا کہ بخار ہی وہ ممکنہ پہلی علامت ہے جو کرونا وائرس کے مریض میں سب سے پہلے ظاہر ہوتی ہے۔

علامات کی ترتیب کے بارے میں معلوم ہونے سے ڈاکٹرز جلد کرونا وائرس انفیکشن کی تشخیص کر سکیں گے، اور بروقت اقدام سے مریضوں کی حالت بگڑنے سے بچائی جا سکے گی۔

واضح رہے کہ کو وِڈ 19 کی پہلی علامت سے متعلق حتمی طور پر معلوم نہیں ہو سکا ہے، تاہم امریکی ماہرین نے اپنی تحقیق کے بعد یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ علامات کے نمودار ہونے کی ترتیب شناخت کر لی گئی ہے۔

ایک اور تحقیق میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ کرونا کی علامات ظاہر ہونے میں اوسطاً 8 دن لگتے ہیں، اس سے قبل کی جانے والی تحقیق میں کہا گیا تھا کہ یہ علامات 4 سے 5 دنوں کے اندر ظاہر ہو جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں نئی تحقیق چین میں کی گئی ہے، جس میں 11 سو کے لگ بھگ کرونا مریضوں کا تجزیہ کیا گیا۔

محققین نے معلوم کیا کہ مریضوں میں علامات ظاہر ہونے میں اوسطاً 7.75 دن لگتے ہیں جب کہ 10 فی صد میں یہ دورانیہ 14.28 دن رہا، محققین کا کہنا تھا کہ 10 فی صد مریضوں میں علامات ظاہر ہونے کا وقت طبی حکام کے لیے باعث تشویش ہو سکتا ہے جو 14 دن کے قرنطینہ پر انحصار کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں