ہفتہ, اپریل 5, 2025
اشتہار

ٹیرف کے بعد کون سی گاڑیاں مہنگی اور سستی ہو سکتی ہیں؟

اشتہار

حیرت انگیز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک پر ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد گاڑیوں اور ان کے پارٹس کی قیمتوں میں اضافے کی توقع کی جارہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے ٹیرف کے نفاذ کے بعد متحدہ عرب امارات میں نئی ​​کاریں خریدنا مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔

اس کا اثر کار کی دیکھ بھال اور مرمت تک بھی بڑھ سکتا ہے تاہم، دوسروں نے کہا ہے کہ GCC مارکیٹیں گاڑیوں کی کم قیمتوں سے فائدہ بھی اٹھا سکتی ہیں۔

آٹو موٹیو انڈسٹری کے ماہر شاہ بشارت جو تین دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ رکھتے ہیں نے کہا کہ بہت سے اعلی کار سازوں کے امریکا میں پلانٹ ہیں اور یہ نئے ٹیرف ان پر اثر انداز ہوں گے، یہ نہ صرف متحدہ عرب امارات میں بلکہ پوری دنیا میں قیمتوں میں اضافے کو ہوا دے گا۔

ٹرمپ نے بدھ کے روز امریکا بھیجی جانے والی تمام کاروں پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا۔

نئے ٹیرف نہ صرف غیر ملکی ساختہ کاروں پر لاگو ہوں گے بلکہ گاڑیوں کے پرزہ جات پر بھی لاگو ہوں گے، بشمول انجن اور ٹرانسمیشن – ایک ایسا اقدام جس کی توقع ہے کہ 3 مئی سے پہلے نافذ کیا جائے گا۔

خلیجی خطے میں CARS24 کے سی ای او ابھینو گپتا کے مطابق GCC کے رہائشی ٹیرف سے متاثرہ ممالک سے آنے والے "اسپیئر پارٹس اور کار کے نئے ماڈلز کی ترسیل” کی دستیابی میں "کچھ تاخیر” کی توقع کر سکتے ہیں لیکن مواقع موجود ہوں گے۔

امریکی ٹیرف سے چین کو فائدہ کیسے ہوگا؟

چین کے کار ساز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ کے حیران کن فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہو سکتے ہیں کیونکہ درآمد شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس پر 25 فیصد ٹیرف جمعرات سے نافذ ہو گا۔

وائٹ ہاؤس نے دلیل دی ہے کہ ٹیرف امریکی آٹو انڈسٹری کے تحفظ اور ملک کی صنعتی بنیاد اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے۔

بیورو آف اکنامک اینالیسس کے مطابق امریکا نے پچھلے سال 475 بلین ڈالر کے آٹو پارٹس، انجن اور گاڑیاں درآمد کیں جن میں سب سے زیادہ میکسیکو، جاپان، جنوبی کوریا، جرمنی اور کینیڈا شامل ہیں۔

امریکی آٹو انڈسٹری میں چین کی موجودگی اس وقت سے محدود ہے جب ٹرمپ نے 2018 میں اپنی پہلی تجارتی جنگ شروع کی اور 380 بلین ڈالر مالیت کے چینی سامان پر محصولات عائد کیے تھے۔

آٹوموٹو مارکیٹ ریسرچ فرم JATO Dynamics کے مطابق، چینی ساختہ "ہلکی گاڑیاں” – کاریں، وین اور موٹرسائیکلیں ۔۔ جو کہ 2024 میں امریکا میں ہلکی گاڑیوں کی فروخت کا صرف 0.4 فیصد حصہ ہیں۔

یہ محدود موجودگی بڑی حد تک چینی کار سازوں کے لیے امریکا میں کم برانڈ کی پہچان اور سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے گزشتہ سال عائد کردہ 100 فیصد ٹیرف کی وجہ سے ہے۔

2027 سے امریکا مبینہ طور پر قومی سلامتی کی بنیادوں پر چینی ساختہ کسی بھی "کنیکٹڈ گاڑی” کے ہارڈ ویئر یا سافٹ ویئر کی فروخت پر پابندی عائد کر دے گا۔ یہ سسٹم، عام طور پر ای وی میں پائے جاتے ہیں جو گاڑیوں کو بلوٹوتھ، وائی فائی یا سیٹلائٹ کے ذریعے ڈیٹا کا تبادلہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

امریکی ٹیرف کے بعد آئی فون کتنا مہنگا؟ قیمتیں سن کر ہوش اڑ گئے

الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے آٹوفورکاسٹ سلوشنز میں گاڑیوں کی عالمی پیش گوئی کے نائب صدر سام فیورانی نے کہا کہ چینی کار ساز اپنے عالمی حریفوں کے مقابلے میں امریکی ٹیرف سے فوری طور پر کم متاثر ہوئے ہیں جس سے انہیں طویل مدتی فائدہ مل سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی، جاپانی اور جنوبی کوریائی برانڈز مالی طور پر امریکی مارکیٹ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں جب کہ چینی برانڈز نے اب حریف کو کمزور کر دیا ہے۔

امریکا میں کاروبار کرنے کی لاگت سے اس مارکیٹ میں ہر کار ساز کو نقصان پہنچے گا لیکن چینی کار ساز اہم آمدنی کے لیے امریکہ پر انحصار نہیں کرتے۔

ان کا کہنا تھا کہ چینی کار ساز ادارے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں کیونکہ ان کے حریفوں کو ٹیرف کی وجہ سے زیادہ لاگت کا سامنا کرنا پڑے گا جو ممکنہ طور پر انہیں دوسری مارکیٹوں میں زیادہ لاگت سے مسابقتی بناتا ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں