The news is by your side.

Advertisement

وائٹ ہاؤس کے باہر پاک فوج اور رینجرز کی حمایت میں مظاہرہ

واشنگٹن : امریکا میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے پاک فوج کے حق اور رینجرز کی حمایت میں مظاہرہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکا میں مقیم پاکستانیوں نےپاک فوج کے حق میں مظاہرہ کیا اور کراچی میں جاری رینجرز آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے اسے جاری رکھنے کا مطالبہ کیا، مظاہرین نے پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ ’’آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد سے پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہت بہتری آئی ہے۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، اسے ہر صورت جاری رہنا چاہیے، مظاہرین نے آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن کے دوران قربانی دینے والے اہلکاروں کو خراج تحسین بھی پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ جرائم پیشہ افراد کو پناہ دینے والی سیاسی جماعتوں کے خلاف ہر صورت کارروائی جاری رہنا چاہیے تاکہ پاکستان میں حقیقی امن آسکے۔

یاد رہے کراچی میں رینجرز کو دیے گیے خصوصی اختیارات کی مدت 18 جولائی کو ختم ہوگئی ہے، لاڑکانہ میں رینجرز کی  کارروائی کے بعد سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان صورت حال سنگین ہوگئی ہے، رینجرز نے لاڑکانہ میں کارروائی کرتے ہوئے سندھ کی اہم سیاسی شخصیات کے فرنٹ مین اسد کھرل کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد وزیرداخلہ سندھ اور اُن کے بھائی نے اپنے کارکنان کے ہمراہ ملزم کو دخل اندازی کرتے ہوئے فرار کروایا تھا۔

اے بھی پڑھیں :     سکھر: اسدکھرل کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیاگیا

 بعد ازاں اسد کھرل کو حیدرآباد میں کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے اور گزشتہ روز سکھر کی سول عدالت میں پیش کرتے ہوئے ریمانڈ بھی طلب کرلیا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ رینجرز کو صرف کراچی میں کارروائی کے خصوصی اختیارات دیے گیے تھے۔

پڑھیں :      رینجرزاختیارات بحال کرنے کے لیے تاجروں کاسندھ حکومت کو72گھنٹےکاالٹی میٹم

 واضح رہے رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے کے حوالے سے کراچی کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کیے گیے جبکہ انجمن تاجر اتحاد نے بھی سندھ حکومت کو اختیارات دینے کے حوالے سے 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے جس کی مدت پیر کے روز ختم ہوجائے گی، انجمن تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر رینجرز کو خصوصی اختیارات نہیں دیے گیے تو شہر میں بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات ایک بار پھر شروع ہوجائیں گے‘‘۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ نے رینجرز کو اختیارات نہ ملنے تک وی آئی پیز کی سیکورٹی واپس بلانے کے احکامات جاری کیے تھے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام اہلکاروں کو واپس بلا لیا گیا ہے، جبکہ رینجرز نے شہر کے داخلی ، خارجی راستوں سمیت شہر میں جاری اسنیپ چیکنگ روکنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں :      چوہدری نثار کی ڈی جی رینجرز کو وی آئی پی سیکورٹی سے نفری واپس بلانے کی ہدایت

 رینجرز کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’’خصوصی اختیارات نہ ملنے تک رینجرز کے اہلکار عوامی مقامات، مساجد اور تعلیمی اداروں میں سیکورٹی کے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے، خصوصی اختیارات اور سندھ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں سابق صدر آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کا دبئی میں دو روزہ اجلاس جاری طلب کیا تھا جس میں رینجرز اختیارات اور پانامہ لیکس کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیے جانے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں : رینجرز کے خصوصی اختیارات کی مدت ختم، وزیراعلیٰ سندھ مشاورت کیلئے دبئی روانہ

 اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، وزیر داخلہ سندھ، وزیر بلدیات سمیت پی پی رہنماء رحمان ملک ، فریال تالپور، خورشید شاہ، فاروق ایچ نائیک، لطیف کھوسہ، شرجیل میمن سمیت ریگر اعلیٰ قیادت دبئی پہنچ گئی ہے، جنہیں کل آصف علی زرداری کی جانب سے عشائیہ بھی دیا گیا، گزشتہ روز پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور نے سابق صدر اور شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری سے ملاقات کر کے تمام صورتحال سے آگاہ بھی کیا ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں