The news is by your side.

Advertisement

کاک پٹ ریکارڈر کس نے تلاش کیا؟ تحقیقات میں کیا مدد ملے گی؟ جانیے اہم معلومات

کراچی: پی آئی اے کے تباہ ہونے والے مسافر طیارہ کا کاک پٹ وائس ریکارڈر کس نے تلاش کیا اور ریکارڈر سے تحقیقات میں کیا مدد ملے گی؟ اس حوالے سے اے آر وائی نیوز نے پتہ لگا لیا۔

فرانس سے آئی ایئربس کمپنی کے ماہرین کی جانب سے پی آئی طیارہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں، تیسرے روز بھی گیارہ رکنی ٹیم جائےحادثہ پرپہنچی ، ماہرین جدید تیکنیکی آلات کی مدد سے فرانسک طریقے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

ماہرین نےکاک پٹ وائس ریکارڈرکی تلاش کیلئے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتےہوئے ملحقہ عمارتوں کےعلاوہ گلیوں اوررہائشی آبادی میں تکنیکی آلات کی مدد لی، جس میں تحقیقاتی اداروں کو بڑی کامیابی ملی اور وائس ریکارڈر جہازکے ملبے کے نیچےسے مل گیا۔

ذرائع کے مطابق ملبے سے کاک پٹ وائس ریکارڈر رینجرز کے افسر ڈی ایس آر وسیم نے تلاش کیا، کاک پٹ وائس ریکارڈرملنےکےبعد پی آئی اے حکام کے حوالے کیاگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر ڈی کوڈ ہونے کے بعد اہم پیش رفت اور معنی خیز نتائج سامنے آئیں گے، کاک پٹ وائس ریکارڈر میں اس بات کا بھی تعین کیا جائے گا کہ کیپٹن اور فرسٹ آفیسر کےدرمیان گفتگو کا مرکز پیشہ ورانہ تھا یا پھرذاتی نوعیت کی گفتگو ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کے طیارے کا کاک پٹ وائس ریکارڈر مل گیا

ذرائع نے بتایا کہ کاک پٹ کریو کے مبینہ ذہنی انتشار اور ذاتی نوعیت کے مسائل کو بھی انتہائی باریک بینی سے پرکھا جائے گا، ڈی کوڈ کے عمل سے کپتان اور نائب کپتان کے درمیان ذہنی ہم آہنگی کو جانچنے میں بھی مدد ملے گی۔

اسی طرح حادثےسے آدھے گھنٹے قبل کی باہمی گفتگو پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی، کپتان اورنائب کپتان کے درمیان ہونے والی تمام تر زبانی گفتگو کاک پٹ وائس ریکارڈر میں محفوظ ہوتی ہے۔

کاک پٹ وائس ریکارڈر میں فضائی عملے کی زمینی عملے سے بات چیت بھی من وعن ریکارڈ ہورہی ہوتی ہے جب کہ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈ میں طیارے کے بارے میں پرواز کے بارے میں مختلف معلومات محفوظ ہو رہی ہوتی ہیں۔

پرواز کی اونچائی، رفتار، لینڈنگ گئیر اور فلیپ کی معلومات ہوتی ہے، فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر ایک خاموش فلم کی مانند کام کرتا ہے، فرانسیسی ٹیم ایک ہفتے کے اندر کاک پٹ کو ڈی کوڈ کرکے دستاویز کی شکل میں پاکستان کے حوالے کردیں گے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں