The news is by your side.

Advertisement

شدید خطرے سے دوچار کرونا مریضوں کے لیے مرک کمپنی کی ٹیبلٹ تجویز

شدید خطرے سے دوچار کرونا مریضوں کے لیے عالمی ادارۂ صحت نے مرک کمپنی کی ٹیبلٹ تجویز کر دی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے ایک پینل نے بدھ کے روز کووِڈ 19 کے زیادہ خطرے سے دوچار مریضوں کے علاج کے لیے امریکی ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی مرک کی تیار کردہ اینٹی وائرل گولی مولنوپِراویر (molnupiravir) کے استعمال کی حمایت کی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ماہر پینل نے کم شدید کرونا والے مریضوں کے لیے اس گولی کے استعمال کی تجویز مشروط طور پر دی ہے، وہ مریض جن کے اسپتال میں داخل ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، یعنی مدافعتی نظام سے محروم، جنھیں ویکسین نہیں لگی، بوڑھے اور دائمی امراض میں مبتلا افراد۔

یہ سفارش 6 کلینیکل ٹرائلز کے نئے ڈیٹا پر مبنی ہے، جس میں 4,796 مریض شامل تھے۔ دسمبر میں جب امریکا میں مولنوپِراویر کے استعمال کی اجازت ملی، تب سے، کرونا مریضوں میں اس گولی کی مانگ بہت بڑھ گئی ہے، اگرچہ بعض گروپس میں اس کی نسبتاً کم افادیت سامنے آئی اور کچھ دیگر مسائل بھی دیکھے گئے۔

ڈبلیو ایچ او کے پینل نے کہا کہ وہ حریف کمپنی فائزر کی تیار کردہ اینٹی وائرل ٹیبلٹ پیکسلووِڈ (Paxlovid) کے لیے بھی سفارشات تیار کر رہا ہے۔ فائزر کی گولی کووڈ-19 سے اسپتال میں داخل ہونے اور اموات کو روکنے میں تقریباً 90 فی صد کارگر ثابت ہوئی ہے، جب کہ مولنوپِراویر کی یہ افادیت 30 فی صد ہے۔

واضح رہے کہ ڈبلیو ایچ او کے گائیڈ لائن ڈویلپمنٹ گروپ (جی ڈی جی) کی سفارشات کا مقصد ڈاکٹروں کو تیزی سے بڑھتے ہوئے حالات جیسا کہ کرونا کے وبائی مرض میں مریضوں کی بہترین دیکھ بھال فراہم کرنے میں مدد کرنا ہے۔

پینل نے خبردار کیا کہ نوجوانوں اور صحت مند مریضوں، بشمول بچے، اور حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین کو ممکنہ خطرات جیسا کہ بڑھتے ہوئے جنین میں نقائص کی وجہ سے مولنوپِراویر نہیں دی جانی چاہیے، یہ احتیاط جانوروں میں اس ٹیبلٹ کے مطالعے کے بعد جاری کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ یہ دوا زیادہ خطرے سے دوچار مریضوں کے لیے تجویز کی گئی ہے، شدید یا سنگین کرونا بیماری میں مبتلا مریضوں کے لیے نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں