The news is by your side.

Advertisement

آئندہ سال تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد کتنے فیصد رہ جائے گی؟

نیویارک: عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ مردوں میں تمباکو نوشی کا رجحان تیزی سے کم ہورہا ہے اور وہ بری لت سے جان چھڑانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کرنے والی خواتین کی تعداد کم ہورہی جبکہ مردوں کے حوالے سے بھی بڑی اور مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملی جو قابل تحسین ہے۔

رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ اب سے پہلے سگریٹ نوشی کرنے والے مردوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا مگر رواں سال یہ تعداد تیزی سے کم ہورہی ہے، جو ہم سب کے لیے خوش آئند ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی خواتین کو تمباکو نوشی کرتا دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، زرتاج گل

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمباکو نوشی میں مبتلا افراد کی بری لت ختم کروانے کے لیے ابھی بہت سے اقدامات باقی ہیں، اگر ہم ان پر مکمل طریقے سے عمل کریں گے تو ہر سال دنیا بھر میں ہونے والی 80 لاکھ اموات کو روکا جاسکے گا۔ رپورٹ کے مطابق 2020 تک تمباکو استعمال کرنے والے مردوں کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت بیس لاکھ کم ہوجائے گی۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2010 کے بعد سے ان دس سالوں میں 60 فیصد ممالک میں تمباکو نوشی کا رجحان 30 فیصد کم ہوا مگر یہ رفتار بہت کم ہے جسے ڈبلیو ایچ او کے اہداف کو پورا نہیں کرتی۔

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس گریبیسس کا کہنا تھا کہ مردوں میں تمباکو استعمال میں کمی، سگریٹ نوشی کی عالمی جنگ میں ایک اہم موڑ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی حکومتوں کی جانب سے تمباکو کی صنعت پرسختی سے نافذ پالیسیوں اور قانون پر عمل درآمد کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خبردار! تمباکو نوشی بینائی کو متاثر کرسکتی ہے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں مرد تمباکو نوشوں کی تعداد 80 فی صد سے باقی رہ گئی جس کا مطلب یہ ہے کہ مردوں میں تمباکو نوشی کا رجحان کم ہورہا ہے جبکہ دوسری طرف الیکٹرانک سگریٹ ، پائپس اور شیشے کی عادت سے بھی لوگ جان چھڑا رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں