The news is by your side.

Advertisement

اسٹرازینیکا ویکسین خون جمنے کی وجہ کیوں بن رہی ہے؟ تحقیق میں حیران کن انکشاف

سائنسدانوں نے ایسٹرازینیکا ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں بلڈ کلاٹ کے مضر اثر کی تفصیلی وضاحت پیش کردی۔

طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ہونے والی رپورٹ میں محققین نے کہا کہ ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں ایسی اینٹی باڈیز کی سطح بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جو مدافعتی نظام سے منسلک خلیات کے اجتماع کے خلاف متحک ہوتی ہیں ، جن کو جسم ویکسین کے ردعمل میں تشکیل دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اینٹی باڈی پلیٹلیٹ سے چپک جاتی ہیں جو کلاٹس بننے کی وجہ بنتا ہے اور خون کی روانی رک جاتی ہے۔

خیال رہے کہ ڈھائی کروڑ سے زائد افراد ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال کرچکے ہیں جن میں سے اکثر نوجوانوں میں خون جمنے کی شکایات موصول ہوئیں تھی جبکہ 18 متاثرین کی موت بھی واقع ہوئی تھی۔

ناروے کی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ بلڈ کلاٹنگ کے کیسز کی شرح ویکسین استعمال کرنے والے افراد میں انتہائی کم ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اب تک زیادہ تر کیسز 60 سال سے کم عمر خواتین میں ویکسینیشن کے 2 ہفتے کے اندر رپورٹ ہوئے، تاہم اس وقت دستیاب شواہد سے خطرے کا باعث بننے والے عناصر کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

محققین نے مشورہ دیا ہے کہ ایسٹرازینیا ویکسین 30 برس سے زائد عمر کے افراد کو فراہم کی جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین اور بلڈ کلاٹس میں کوئی تعلق ثابت بھی ہوجائے تو بھی عام آبادی کے لیے یہ خطرہ کووڈ 19 سے لاحق ہونے والے خطرات سے بہت کم ہوگا۔

محققین کا کہنا ہے کہ اسٹرازینیا ویکسین میں سائنسدانوں نے تدوین شدہ ایڈنووائرس شامل کیا ہے، جو روسی اور جانسن اینڈ جانسن ویکسین بھی استعمال کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ویکسین استعمال کرنے والوں میں بلڈ کلاٹس بننے کی شکایات پر یورپی ممالک نے ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال روک دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں