The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں مسلم نوجوان کو ‘آکسیجن مین’ کیوں کہا جانے لگا؟

نئی دہلی: بھارت میں شاہنواز شیخ نامی نوجوان کورونا کی بدترین صورت حال کے دوران مریضوں کو مفت میں آکسیجن فراہم کررہا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہر ممبئی کے اس نوجوان نے ابتدا میں اپنی گاڑی بیچ کر آکسیجن کے 60 سلنڈر خریدے تاکہ مفت میں مریضوں کو آکسیجن کی سہولت فراہم کی جاسکے۔ شاہنواز کے پاس اب 200 کے قریب سلنڈر موجود ہیں جن سے لوگوں کو خدمات دی جارہی ہیں۔

ممبئی کے شہری اس نوجوان کو اب ‘آکسیجن مین’ کے نام سے جانتے ہیں، شاہنواز نے گذشتہ سال کورونا کے 4000 سے زائد مریضوں تک آکسیجن سلینڈر پہنچائے، ان کی کوششوں کی بدولت بہت سے لوگ صحت یاب ہوئے۔

شہری نے ملاڈ نامی علاقے میں ایک وار روم تیار کررکھا ہے جہان دیگر افراد بھی کررہے ہیں۔

وار روم میں مختلف علاقوں سے روزانہ کی بنیاد پر 500 سے زائد کالز موصول ہوتی ہیں، لوگوں کو ناصرف آکسیجن مفت فراہم کیے جاتے ہیں بلکہ کورونا وائرس سے متعلق دیگر اہم معلومات بھی دی جاتی ہیں۔

شاہنواز کا کہنا تھا کہ اس کے دوست کی بہن گذشتہ سال کورونا کے باعث آکسیجن نہ ملنے سے انتقال کرگئی تھیں، اس موت سے مجھے شدید صدمہ پہنچا اور پھر گاڑی پیچ کر اس کام کا آغاز کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں