The news is by your side.

Advertisement

مچّھر کس کو زیادہ تنگ کرتے ہیں؟

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ دوسروں کی نسبت‌ مچؑھر انھیں زیادہ کاٹتے ہیں اور عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ جن کا خون میٹھا ہوتا ہے، انھیں مچھر زیادہ تنگ کرتے ہیں۔ تاہم سائنس دانوں کے مطابق اس کا سبب جسم کا وہ کیمیائی عمل ہے جو ہماری فضا کو متاثر کرتا ہے اور اسی کی مدد سے مچھر اپنے ہدف کا تعین کرتا ہے۔

مچھروں کی کثرت اور ان کے پنپنے کے موسم میں ہمارا کھلی آستین یا گہرے رنگ کے کپڑے پہن کر باہر جانا مشکل ہوجاتا ہے۔ مچھر کہیں‌ بھی چین سے بیٹھنے نہیں‌ دیتے اور سَر پر منڈلاتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ایسے موسم میں‌ مچھر زیادہ ہی پریشان کرتے ہیں۔

ماہرینِ حشریات کے مطابق مچھر اپنے مخصوص طرزِ عمل، حسّی غدود اور انسانی جسم سے فضا میں خارج ہونے والے کیمیکلز کی مدد سے اپنے ہدف کا تعین کرتے ہیں۔ خاص طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اس حوالے سے ان کی راہ نمائی کرتی ہے۔

مچھروں کے انسانوں‌ کو کاٹنے یا ان کا خون چوسنے اور اس معمولی جسامت والے کیڑے کی وجہ سے پھیلنے والی مختلف بیماریوں‌ پر امریکا، جرمنی، جاپان اور دیگر ممالک کی مستند جامعات سے منسلک ماہرین اور مشہور تحقیقی مراکز سے وابستہ سائنس دانوں کی رپورٹوں کے مطابق لاکھوں انسان اس جاندار کی وجہ سے مہلک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور مچھر ہر سال بڑی تعداد میں‌ انسانوں کی ہلاکت کا سبب بنتے ہیں۔

محققین کے مطابق جب کوئی فرد کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے تو یہ فوراً ہوا میں جذب نہیں ہوجاتی بلکہ مرغولوں کی صورت میں سفر کرتی ہے اور یہی مچھر کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مدد سے مچھر 50 میٹر (164 فٹ) کی دوری سے اپنے ہدف کا تعین کرلیتے ہیں اور اس کی طرف بڑھتے ہوئے دیگر عوامل بھی انھیں اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ عوامل جسمانی درجۂ حرارت، آبی بخارات اور رنگت وغیرہ ہوتے ہیں جو ہر فرد کی جسمانی حالت کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ سب سے اہم عامل جس کی بنیاد پر مچھر اپنے ہدف کا انتخاب کرتا ہے، وہ کیمیائی مرکبات ہیں جو ہماری جلد پر جراثیم پیدا کرتے ہیں۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ پسینے کے غدود سے خارج ہونے والی رطوبتوں کو یہ جراثیم، طیران پذیر (اُڑجانے والے) مرکبات میں تبدیل کر دیتے ہیں جو فضا میں شامل ہوکر مچھر کے سَر پر موجود نظامِ شامہ سے ٹکراتے ہیں۔ ہر انسان کی جینیاتی ساخت کے لحاظ سے ان کی مقدار اور تناسب مختلف ہوسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر انسان کے جسم کی بُو بھی مختلف ہوتی ہے۔

جینیاتی ساخت اور مرکبات کا یہی اختلاف ایک ہی گھر میں موجود بلکہ قریب بیٹھے ہوئے افراد کو مچھروں کے لیے ایک دوسرے سے منفرد بناتا ہے۔

سائنسی تحقیق کے مطابق جس انسان کی جلد پر زیادہ اقسام کے جراثیم ہوتے ہیں وہ مچھروں کے لیے کم کشش رکھتا ہے جب کہ جس کی جلد پر جراثیم کی کم اقسام پائی جاتی ہیں اس کا خون یہ “کرمکِ آوارہ” زیادہ رغبت سے چوستا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں