The news is by your side.

Advertisement

شام میں مظالم؛ بے یارو مددگار بچے سردی سے ٹھٹھرنے لگے

شام میں خانہ جنگی سے متاثرہ ادلب میں کیمپوں میں مقیم سیکڑوں بے گھر شامی خاندانوں میں باپ میں اپنے بچوں کی زندگی بچانے کے لیے انتہائی سرد راتیں جاگتے ہوئے گزارتے ہیں۔

ترکی اور شام کی سرحد کے ساتھ واقع ادلب میں داخلی طور پر بے گھر سیکڑوں شامی خاندان کیمپوں میں مقیم ہیں جہاں خون جما دینے والی سردی نے ان کی زندگی کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے اور انہیں یہی خطرہ ستاتا ہے کہ یہ سردی کہیں انکے بچوں کی جان نہ لے لے۔
ادلب میں سینکڑوں خیمے حال ہی میں ہونے والی شدید برفباری اور بارش کے باعث تباہ ہوچکے ہیں۔

خیموں میں مقیم خاندان دن کے وقت پلاسٹک اور گتوں سے صفائی کرتے ہیں اور ایسی اشیا جمع کرتے ہیں جس سے رات کو الاؤ جلا کر خیمے کو گرم رکھا جاسکے۔

جذبہ پدر سے لبریز باپ آگ جلا کر ساری رات یہ نگرانی کرتے ہیں کہ کہیں سرد ہوا اس الاؤ کو نہ بجھا دے اور ان کے بچے سردی میں ٹھٹھر کر نہ مرجائیں اور یہی تشویش انہیں ساری رات سونے نہیں دیتی۔

ایسے ہی بے گھر افراد میں یاسر بری بھی شامل ہیں جو بشارالاسد حکومت کے مسلسل حملوں کی وجہ سے اپنے آبائی شہر حما سے بے گھر ہوکر یہاں پناہ گزین ہیں۔

یاسر بری نے خیموں میں بسر زندگی کی کسمپرسی کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت ہمارے پاس خیمے کو گرم رکھنے کے لیے کوئی چولہا یا جلانے کے لیے لکڑی یا دیگر کوئی چیز نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں