The news is by your side.

Advertisement

سگریٹ نوشی ترک کرنے کا فیصلہ کر کے ناکامی کیوں ہوتی ہے؟

کیلی فورنیا: امریکا میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن لوگوں‌ کو اپنی خواہشات اور دماغ پر قابو پانا نہیں آتا وہ سگریٹ نوشی چھوڑنے کا فیصلہ کر کے واپس اُسی ڈگر پر چل پڑتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر دورہم میں واقع ڈیوک یونیورسٹی کے ماہرین نے سگریٹ نوشی ترک نہ کرنے کے حوالے سے مطالعاتی تحقیق کی جو  جرنل نیورو فزکام فارمیسی میں شائع ہوئی۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اگر آپ سگریٹ نوشی کی بری عادت میں مبتلا ہیں تو اسے چھوڑنے کا فیصلہ اپنے دماغ پر حاوی نہ کریں کیونکہ اگر ایسا ہوا تو سگریٹ زندگی بھر آپ کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ سگریٹ نوش کے لیے عادت ترک کرنا آسان فیصلہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ بہت محنت اور صبر کے بعد ہی بری لت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے سگریٹ نوشی ترک کرنے اور اس کا فیصلہ کرنے کے بعد عادت نہ چھوڑنے والے افراد کا انٹرویو کیا۔ جس میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ سگریٹ چھوڑنے کا فیصلہ کر کے اسے دماغ پر حاوی نہیں کرتے وہ آسانی کے ساتھ چھٹکارا پالیتے ہیں جبکہ وہ جنہیں اپنے دماغ پر قابو نہیں ہوتا وہ بار بار فیصلہ کر کے بھی ناکام رہتے ہیں۔

ماہرین تحقیق کے دوران 85 ایسے افراد کا ایم آر آئی کیا جنہوں نے سگریٹ نوشی ترک کرنے کا فیصلہ کیا اور 10 ہفتوں تک اسے ہاتھ نہیں لگایا، تحقیقی ٹیم نے پیشرفت کے حوالے سے اُن کی مانیٹرنگ کی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 41 افراد اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹے جبکہ دیگر 44 نے آسانی کے ساتھ بری عادت سے چھٹکارا حاصل کیا۔

تحقیق کے مطابق جن لوگوں نے سگریٹ نوشی کی عادت ترک کی اور اُن کے اندر اپنی خواہشات پر قابو پانے کا عنصر پایا گیا جس کی وجہ سے وہ فیصلے پر ڈٹ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کی خواہشات (انسولہ) دماغ کے مختلف حصوں کو بار بار پیغام دیتی ہیں جس کی وجہ سے فیصلہ کرنے والا تذبذب کا شکار ہوجاتا ہے اور پھر ایک وقت وہ اپنا فیصلہ تبدیل کرلیتا ہے۔

پروفیسر میریڈیٹ نے بتایا کہ ہم نے سگریٹ نوشی ترک کرنے والے افراد کا ایم آر آئی دوبارہ بھی کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے اپنی خواہشات اور دماغ پر مکمل کنٹرول رکھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’اگر ہم کامیابی سے سگریٹ نوشی ترک کرنے والوں کے ساتھ بات چیت کریں اور یہ عمل بھی سود مند ثابت ہوسکتا ہے‘‘۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں